Kya Aala Taleem o Tarbiat Yafta Afsaran Bhi Bebas
کیا اعلیٰ تعلیم و تربیت یافتہ افسران بھی بے بس
پچھلے ایک مہینے میں لاہور اور کراچی میں چند انتہائی افسوس ناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو ہمارے بیمار اور دیوالیہ معاشرے کی نشان دہی کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ہماری پولیس کی ناقص کارکردگی اور غیر پیشہ وارانہ کردار کو سامنے لاتے ہیں۔ میں بہت بوجھل دل سے اس پر لکھنے پر مجبور ہوا ہوں کیونکہ موجودہ دور میں پولیس افسران کی غالب اکثریت بہت پڑھی لکھی اور بہترین تربیت یافتہ ہے۔
ان کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکی ہے اور اب تو تقریباً ہر تھانے کو ای ایس پی لیول کا افسر ہیڈ کر رہا ہے۔ پولیس افسران کی اکثریت پاکستان کا سب سے بڑا مقابلے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرکے آتی ہے۔ مقابلے کے امتحان یعنی سی ایس ایس کرنے کے لیے کم سے کم تعلیمی قابلیت سیکنڈ کلاس گریجوئیشن ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے والوں نے اسکول اور کالج میں ضرور تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ کہنے کو تو کم سے کم تعلیمی معیار گریجوئیشن ہے لیکن مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے پوسٹ گریجوئیشن کر رکھی ہوتی ہے یعنی وہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔
اچھی تعلیم کا مطلب ہے کہ مقابلے کے امتحان میں ہر امیدوار اپنی زندگی کا ابتدائی Formative حصہ گھر اور تعلیمی اداروں میں گزار کر، اچھے کردار کی تربیت لے کر اپنے کیریئر کو بنانے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ میرے کتنے ہی کورس میٹس مقابلے کے امتحان میں بہت امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوئے، پھر پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر بہترین تربیتی اداروں سے تربیت یافتہ ہو کر پولیس کی جاب سنبھالی۔ ان افسران کی غالب اکثریت بہت اچھے کردار کے حامل افراد کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے افسران کے ہوتے ہوئے مجموعی طور پر پولیس کا کردار کیوں اتنا افسوس ناک ہے۔
شاید یہ اس لیے ہے کہ ہر محکمے کا........
