menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Overseas Pakistani Ka Dukh

45 0
07.09.2026

ایک اوورسیز پاکستانی کا دکھ

ارض مقدس کے سفر کی خواہش تو ایک طویل عرصے سے کر رہا تھا مگر اللہ رب العزت کے دربار سے منظوری میں وقت لگا۔ ہمارے ارد گرد ایسے افراد بھی ہوں گے جو عرصہ دراز تک سعودی عرب میں مقیم رہے مگر حج بیت اللہ یا عمرہ شریف کا سفر نصیب نہ ہوسکا، اسی لیے قبولیت بہت اہم ہے۔ جب منظوری ہو جاتی ہے، سارے راستے آسان ہو جاتے ہیں، آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کے لیے کہاں کہاں سے یقین کے چراغ روشن ہونے لگتے ہیں، سفری اخراجات ہوں یا پھر وہاں کا قیام و طعام، سب کچھ انتہائی آسانی سے ممکن ہو جاتا ہے، پلک جھپکتے ہی سب کچھ آسان ہوجاتا ہے۔

میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، ایک طویل عرصے سے خواہش تو تھی مگر کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی اور جب منظوری ہوئی تو سب کچھ ایک ہفتے میں طے پا گیا اوریہ سب کیسے ہوا، ایک عاصی، سیاہ کار، اس سرزمین پر کیسے پہنچ گیا، مجھے کچھ علم نہیں۔ اپنے دامن کو دیکھتا ہوں تو گناہوں اور ندامت کے سوا کچھ نہیں اور اس کی رحمت کی طرف دیکھتا ہوں تو شکرانے کے آنسو ہیں جو رکنے کا نام نہیں لے رہے، تمام التجائیں اشکوں میں ڈھل رہی ہیں۔

میری خواہش اور کوشش تو یہ تھی کہ مجھے لاہور سے فلائی کرنا پڑے اور قومی ایئر لائن ہو مگر ایجنٹ نے یہ مشورہ دیا کہ سعودی ایئرلائن اچھی بھی ہے اور پرسکون بھی، اس ایئرلائن میں وزن کا ایشو بھی نہیں ہوتا، آپ آسانی سے پچاس کلو تک کا وزن لا سکتے ہیں، مجھے یہ مشورہ پسند آیا، سعودی ایئرلائن بے شک مہنگی ہے مگر........

© Daily Urdu