menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qanoon Ke Aeene Mein Insaf Ki Tasveer

21 0
21.05.2026

قانون کے آئینے میں انصاف کی تصویر

عدالت میں پیش ہونے والا ہر بیان اور ہر دلیل ایک سخت، منظم اور قانونی ماحول میں پرکھی جاتی ہے۔ خصوصاً فوجداری مقدمات میں عدالتی کارروائی قانون، عدالتی نظائر اور شہادت کے اصولوں کے مطابق چلتی ہے، نہ کہ جذبات یا اخلاقی احساسات کے تحت۔ قانون اپنی فطرت میں حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ ثبوت، جرح، گواہوں، قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقۂ کار کے دائرے میں کام کرتا ہے۔ لیکن ہر عدالتی فیصلہ انصاف فراہم نہیں کرتا۔ پاکستان میں کام کرنے والا ہر فوجداری وکیل اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ عدالت میں موجود ہر مقدمے اور ہر فائل کے پیچھے صرف قانونی نکات نہیں ہوتے بلکہ انسانی کہانیاں بھی ہوتی ہیں، ایسی زندگیاں جو ایک ایسے نظام میں الجھی ہوتی ہیں جو اکثر تنازع تو حل کر دیتا ہے، مگر انصاف فراہم نہیں کر پاتا۔

انصاف، قانون کی طرح ایک مشینی عمل نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی تصور ہے۔ یہ صرف کسی قانون یا دستاویز میں محدود نہیں بلکہ ضمیر، برابری اور انسانی عزت جیسے اصولوں سے جنم لیتا ہے۔ اگرچہ انصاف کے حصول کے لیے قانون سب سے اہم ذریعہ ہے، لیکن دونوں ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ یہی فرق واضح کرتا ہے کہ کئی مرتبہ قانونی نظام درست طریقے سے چلنے کے باوجود بھی انصاف حاصل نہیں ہو پاتا، خصوصاً کمزور اور غریب طبقے کے لیے۔

قانون اپنی باقاعدہ ساخت میں ریاستی اختیار کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کے رویوں کو منظم کرنا، تنازعات حل کرنا اور جرائم کی سزا دینا ہوتا ہے۔ اسی لیے قانون حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک مضبوط قانونی نظام کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے جذبات، ذاتی پسند و ناپسند اور تعصب سے پاک ہوں۔ پاکستان کا فوجداری نظامِ انصاف قانونِ شہادت، پاکستان پینل کوڈ (PPC) اور ضابطۂ فوجداری (CrPC) جیسے قوانین پر قائم ہے۔ ان قوانین کا مقصد شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے باوجود عام شہری اکثر عدالتی نتائج کو غیر منصفانہ تصور کرتے ہیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ قواعد اور ثبوتوں پر مبنی نظام عوام کی انصاف سے متعلق توقعات پوری کرنے میں اکثر ناکام کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ خود قانون کی فطرت ہے۔ قانون یہ سوال کرتا ہے کہ "کیا ہوا؟" اور "کیا قانون کی خلاف ورزی ہوئی؟" لیکن یہ ہمیشہ........

© Daily Urdu (Blogs)