Ye Mulk Ameeron Ka Hai
ہم سب نے دل کے کسی کونے میں یہ سچ مان لیا ہے کہ یہ ملک امیروں کا ہے اور باقی لوگ یہاں کرائے دار ہیں۔ آپ، میں ہم سب کرائے دار ہی تو ہیں۔ انیس سو چورانوے میں دو ماہرینِ نفسیات، جان جوسٹ اور مہزرین بناجی نے ایک بات نوٹ کی۔ جو لوگ کسی نظام میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں، وہ اکثر اسی نظام کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے "سسٹم جسٹیفیکیشن" کا نام دیا یعنی جو نظام چل رہا ہے، اسے درست اور جائز ثابت کرنے کی اندرونی خواہش۔ جوسٹ کی تحقیق بتاتی ہے کہ نظام کو جائز مان لینا ایک درد کش گولی کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ بے چینی، احساسِ جرم اور غیر یقینی کو کم کر دیتا ہے۔ ہر صبح یہ تسلیم کرنا کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور ہم بے بس ہیں! یہ بوجھ کوئی کب تک اٹھائے؟ سو ذہن ایک آسان کہانی گھڑ لیتا ہے۔
"ہماری قسمت ہی ایسی ہے۔ "
"یہاں سفارش کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ "
"یہ ملک نہیں بدلنے والا۔ "
ہر بار یہ جملہ تھوڑا سا درد کم کرتا ہے اور ہر بار اس اندھیرے نظام کو تھوڑا اور مضبوط کر دیتا ہے۔ جو قوم ناانصافی کو قسمت مان لے، اس قوم پر ناانصافی کرنے والوں کو کبھی جواب نہیں دینا پڑتا۔ یہی وجہ کہ پاکستان اشرافیہ، اسٹیبلسمنٹ اور سیاستدانوں کے لئے جنت ہے اور عام آدمی شیمپو خریدے،........
