menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Cup Toot-ta Hai To University Bhi Toot-ti Hai

46 0
27.09.2026

جب کپ ٹوٹتا ہے تو یونیورسٹی بھی ٹوٹتی ہے

جاپان میں ایک قدیم فن رائج ہے جسے "کِنتسوگی" کہتے ہیں: جب کوئی نفیس مٹی کا برتن ٹوٹ جائے تو اسے پھینکا نہیں جاتا بلکہ اس کی کرچیوں کو سونے کے پانی سے جوڑا جاتا ہے، اس طرح کہ ٹوٹنے کی لکیریں چھپائی نہیں جاتیں بلکہ روشن کی جاتی ہیں۔ اس فلسفے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کسی چیز کی قدر اس کی بے عیبی میں نہیں بلکہ اس دیکھ بھال میں مضمر ہے جو اس کے محافظ اسے دیتے ہیں۔ برتن وہی ہوتا ہے، مٹی وہی ہوتی ہے، فرق صرف نگاہِ التفات کا ہوتا ہے۔ یہی نگاہِ التفات، یہی محافظانہ حس، دراصل کسی بھی علمی ادارے کی معراج اور اس کے زوال کے درمیان حدِ فاصل ہوتی ہے۔ ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے یہی راز کھولا تھا کہ تہذیبوں کا عروج ایک زندہ عصبیت سے جنم لیتا ہے اور ان کا انحطاط اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ عصبیت، یہ اجتماعی حسِ ذمہ داری، اندر ہی اندر بجھنے لگتی ہے، ظاہری شان و شوکت باقی رہتی ہے مگر روح کوچ کر چکی ہوتی ہے۔

یہی دو حوالے، ایک مشرقِ بعید کا فن اور ایک مسلم مفکر کا نظریہ، مل کر اس کہانی کی تفہیم کا دروازہ کھولتے ہیں جو گزشتہ شب ایک باشعور، باضمیر اور اپنی دیانت کی قیمت چکانے والے سینئر دانش ور دوست، جو ایک سرکاری یونیورسٹی کے سینئر افسر ہیں، سے سننے کو ملی۔ کہانی برتنوں ہی کی ہے، مگر ٹوٹے ہوئے برتنوں کی نہیں، ان برتنوں کی جنہیں کبھی جوڑ کر سنوارا گیا تھا اور اب بے پروائی سے بکھیرا جا رہا ہے۔ دو عشرے قبل جب میرے دوست اس جامعہ سے وابستہ ہوئے تو وہاں کی قیادت کی نگاہ تعلیم و تدریس کے دائرے سے کہیں آگے، دیوار کے رنگ، نشست کے ڈیزائن، حتیٰ کہ مہمان کو پیش کیے جانے والے کپ کی ساخت تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس دور کے وائس چانسلر کا ایمان تھا کہ ایک پیالی چائے دراصل جامعہ کی روح کا سفیر ہوتی ہے، وہ خاموش زبان جو الفاظ سے پہلے مہمان تک ادارے کا مزاج پہنچا دیتی ہے۔ یہی دیدہ ریزی، یہی برتنوں کی حرمت، آہستہ........

© Daily Urdu (Blogs)