menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nimaz Mein Akhir Jaldi Kyun?

33 0
19.09.2026

نماز میں آخر جلدی کیوں؟

انسان ساری زندگی کسی نہ کسی کی تلاش میں رہتا ہے کبھی سکون تلاش کرتا ہے کبھی دولت، کبھی عزت کبھی محبت اور کبھی ایسا شخص جس کے سامنے اپنے دل کا بوجھ رکھ سکے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جس سکون کے لیے انسان دنیا کے دروازوں پر دستک دیتا پھرتا ہے اس کا دروازہ اس کے اپنے گھر میں اس کی اپنی جائے نماز پر کھلا ہوتا ہے۔ نماز صرف دین کا ایک فریضہ نہیں یہ بندے اور رب کے درمیان تعلق کی تجدید ہے یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا کے ہنگاموں سے نکل کر انسان اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔

ہم دنیا میں کسی بااثر شخص سے چند منٹ ملاقات کے لیے کتنے جتن کرتے ہیں کسی بڑے آدمی کے دفتر کے باہر انتظار کرنا پڑے تو گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں کسی صاحبِ اختیار سے چند الفاظ سننے کو مل جائیں تو اسے کامیابی سمجھتے ہیں لیکن نماز ہمیں دن میں بار بار اس ذات کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع دیتی ہے جو اقتدار، دولت عزت اور زندگی، سب کی مالک ہےپھر ہم اس ملاقات میں اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں؟

کبھی کسی کو نماز پڑھتے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ عبادت گاہ میں نہیں بلکہ ریس کے میدان میں کھڑا ہے قیام ختم رکوع ختم سجدہ ختم ہر حرکت اگلی حرکت سے آگے نکلنے کے لیے بے تاب نہ رکوع میں ٹھہراؤ نہ سجدے میں اطمینان نہ دل میں وہ کیفیت کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نماز نہیں پڑھی جا رہی آخری گاڑی پکڑی جا رہی ہے مگر نماز کوئی ایسی گاڑی نہیں جس کے چھوٹ جانے کا خوف ہو یہ تو وہ دروازہ ہے جس کے کھلنے پر انسان کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت یعنی اپنے رب کے قرب کا احساس ملتا ہے قرآن کہتا ہے وَاسُجُدُ وَاقُتَرِبُ یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جاؤ۔

غور کیجیے قرب کا........

© Daily Urdu (Blogs)