Do Baghi Awazein
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر اقتدار کے خلاف بولنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہاں سچ بولنے کی قیمت صرف تالیاں نہیں ہوتیں کبھی اپنی ہی صفوں میں سوال اٹھتے ہیں کبھی اپنے ہی لوگ ناراض ہوتے ہیں اور کبھی وہ طاقتور حلقے خفا ہوجاتے ہیں جن کے سامنے عام طور پر سیاست دان خاموش رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں پاکستانی سیاست میں آج دو آوازیں ایسی سنائی دے رہی ہیں جو اس خاموشی کو توڑتی محسوس ہوتی ہیں ایک طرف سعد رفیق ہیں دوسری طرف ندیم افضل چن۔
دونوں اقتدار کی سیاست سے وابستہ ہیں دونوں ایسی جماعتوں کا حصہ ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں مگر ان دنوں ان کی گفتگو میں وہ سوالات سنائی دے رہے ہیں جو عموماً اقتدار کے اندر بیٹھ کر نہیں پوچھے جاتے یہی وجہ ہے کہ ان کی بات محض دو سیاسی رہنماؤں کی تقریر نہیں رہتی بلکہ ایک بڑے سوال میں تبدیل ہوجاتی ہے کیا پاکستان میں اب بھی کوئی ایسا سیاست دان موجود ہے جو اقتدار میں رہ کر بھی اقتدار سے سوال کرنے کی جرأت رکھتا ہو؟
ندیم افضل چن نے حالیہ دنوں میں جس لہجے میں مقتدر طاقتوں اور موجودہ سیاسی بندوبست پر تنقید کی وہ محض سیاسی بیان نہیں تھا وہ اس پورے نظام کے سامنے ایک سوال تھا جس میں عوامی اختیار، پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کی آزادی بار بار بحث کا موضوع بنتی رہی ہے اور سعد رفیق کی گفتگو بھی اسی بنیادی مسئلے کے گرد گھومتی نظر آتی ہے اگر عوام کا فیصلہ مقدم نہیں اگر آئین سب کے لیے برابر نہیں اور اگر سیاسی اختلاف کو برداشت نہیں کیا جائے گا تو پھر جمہوریت محض ایک لفظ رہ جائے گی۔
یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے کیونکہ جمہوریت کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب آپ اپوزیشن میں ہوں اور طاقتوروں کو للکار رہے ہوں اصل امتحان تب ہوتا ہے جب آپ اقتدار کے اندر ہوں اور پھر بھی وہ بات کہہ دیں جو........
