Syed Aitbar Sajid Bhi Rahi e Mulk e Adam Ho Gaye
اس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
سید اعتبار ساجد: علم، ادب اور انسان دوستی کا شاندار استعارہ تھے۔
یہ محض ایک تعزیتی تحریر نہیں، بلکہ اردو ادب کے اُس چراغ کو خراجِ عقیدت ہے جس نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ لفظ، خیال اور انسان دوستی کی روشنی بانٹی، جس کا نام سید اعتبار ساجد۔
سید اعتبار ساجد، لفظوں کا مسافر، علم کا امین
ہاتھ رکھنا ضروری ہے تو سر پر رکھو
بیٹیاں لائق تحریم ہوا کرتی ہیں
یکم جولائی 1948ء کو ملتان کی مٹی میں آنکھ کھولنے والا یہ حساس لڑکا، 27 جنوری 2026ء کو اسلام آباد میں خاموشی سے رخصت ہوگیا۔ عمر کے 77 برس مکمل کرنے والا سید اعتبار ساجد، بظاہر ایک فرد تھا، مگر حقیقت میں ایک عہد، ایک ادارہ اور ایک مکمل ادبی روایت تھا جو ہمارے درمیان سے اٹھ گیا۔
وہ شاعر بھی تھا، ادیب بھی، نقاد بھی، دانشور بھی، ماہرِ تعلیم بھی، کمپیئر بھی اور صحافی بھی، مگر ان سب شناختوں سے بڑھ کر وہ ایک سچا انسان تھا، جس نے قلم کو کبھی مفاد کا خادم نہیں بنایا، بلکہ ہمیشہ ضمیر کی آواز رکھا۔
ان کی عملی زندگی کا آغاز سنٹرل ایکسائز اینڈ لینڈ کسٹمز سے ہوا۔ والد صاحب بھی اسی محکمے سے وابستہ تھے۔ سروسام سے چمن (بلوچستان) تبادلہ ہوا تو یہ محض ایک سرکاری نقل مکانی نہ تھی، بلکہ تقدیر کا وہ موڑ تھا جہاں سے علم، ادب اور تخلیق کا دروازہ پوری طرح کھل گیا۔
چمن میں قیام کے دوران انہوں نے پہلے ایف اے، پھر بی اے کیا۔ بعد ازاں تبادلہ کوئٹہ ہوا اور وحدت کالونی میں سکونت اختیار کی۔ کوئٹہ کی فضا، پہاڑوں کی خاموشی اور تہذیبی تنوع نے ان کے اندر کے ادیب کو پوری طرح بیدار کر دیا۔ یہیں ایم اے مکمل کیا اور استاد خلیل صاحب کے مشورے پر کسٹم کی........
