General Hospital Intezamia Ke Khilaf Chargesheet
چند دن پہلے وزیر اعلیٰ کی مانیٹرنگ ٹیم نے لاہور جنرل ہسپتال کا دورہ کیا اور اس دورے کے بعد ایک اٹھہتر صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی اور حقیقت میں یہ رپورٹ نہیں تھی بلکہ ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف پوری چارج شیٹ تھی جس میں محکمہ صحت کے افسران اور ہسپتال کی انتظامیہ پر مجرمانہ غفلت کے الزامات لگائے گئے تھے جن میں ہسپتال کے اندر زائد المیعاد ادویات کی فراہمی، جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی، نہایت ضروری ادویات کی غیر موجودگی، کئی اہم لیبارٹری ٹیسٹوں کی سہولت کی عدم دستیابی شامل ہیں اور یہی نہیں بلکہ بڑے اہم آپریشنز میں استعمال ہونے والے آلات اور سامان کا ہسپتال میں دستیاب نہ ہونا بھی وہ سوالات ہیں جنہوں نے جنرل ہسپتال جیسے بڑے ادارے کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ مریضوں کو نسخے سے ہٹ کر ادویات فراہم کرنا اور ڈاکٹروں کو مجبور کرنا کہ مریضوں کو غیر ضروری ادویات لکھی جائیں جس کے حوالے سے اس رپورٹ میں درجنوں مریضوں کی شکایات بتائی گئی ہیں جنہیں ادویات اور آپریشن کا سامان نہ ملنے کی وجہ سے ریٹیل مارکیٹ سے ادویات خریدنے کو کہا جاتا رہا ہے اور یہ بڑی عجیب بات ہے ہسپتال کی انتظامیہ مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے اوران کا علاج کرنے کی بجائے انھیں دھوکے میں رکھنے اور حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہے۔
اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں نہ تو مریضوں کے بیٹھنے کا مناسب انتظام موجود تھا اور نہ ہی مریضوں کی مناسب قطار بناکر چیک آپ کروانے کے لئے عملہ دستیاب تھا جس کی وجہ سے مرد اور خواتین مریض بغیر پرائیویسی کے ایک دوسرے سے الجھتے........
