Baghchi
اب جبکہ خیمے جاں کی طنابیں ڈھیلی پڑنے لگیں ہیں تو مجھے بغچی کی فکرنے آدھ موا کر دیا ہے۔ اب جانے میرے ہی ساتھ ہی ایسا انوکھا ہے یا سب کے ساتھ ہی یہی ہوتا ہے؟ قاعدے سے انسان کو فکر تو اگلے پڑاؤ کی ہونی چاہیے یا پھر پیچھے رہ جانے والوں کا دکھ۔ میرے پیچھے تو میرا کوئی ہوتا سوتا باقی بچا نہیں کہ میں ہی کلّم کلّی کہ میرے کچھ اپنوں کو قضا نے دبوچا اور باقیوں کو قدر نے بکھیر دیا۔ سارے جانے وقت کی گردباد میں کہاں رپوش ہوئے۔
وقت اس تیزی سے گزرا کہ میں اپنے فلیٹ سے اولڈ ہوم اور اب یہاں سے اپنی آخری منزل یعنی ہوسپس روانہ کی جانے والی ہوں۔ ستر بہتر سال کا تنہا سفر اب مکت ہونے کو ہے۔ تیزی سے گزرتا ظالم وقت، روپ کا شدید بیری۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ۔۔
ہم موضوع داستاں تھے ہم رشک آسماں تھے
اب کیا کیا جائے کہ بچھڑا "کل" پل ہوا اور آج ہے کہ "ج" کی طرح پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے۔ کل لگتا تھا کہ جوانی، شادمانی، تازگی و نغمگی سدا ساتھ رہے گی اور آج یہ صورت حال کہ ہر صبح چہرے پر ایک نئی لکیر ہویدا۔ اب لکیروں کا بھی اپنا ہی کردار و اطوار۔ ماتھے پر پڑ جائیں تو تند اور دل پر لگ جائیں تو خراشیں اور رشتوں میں دراڑیں البتہ کسی محبوب نے قرطاس پر کھینچ کر بھیجی ہو تو دل نواز۔ میری متاع جان میری بغچی میں ایسے ہی کئی سگند میں بسے........
