menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Atm Machine

13 0
previous day

دھوپ آج اپنی تمام تر سفاکی کے ساتھ زمین پر اتری ہوئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سورج آسمان کی بلندیوں سے اتر کر شہر کی گلیوں میں آ بسا ہو اور اس کی دہکتی سانسیں ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہوں۔ شدید حبس کا عالم تھا۔ ہوا کا ایک جھونکا بھی میسر نہ تھا۔ سر سے پاؤں تک بدن پسینے میں اس قدر شرابور تھا کہ لباس جسم سے چمٹ رہے تھے۔

شدید گرمی نے پوری مارکیٹ کی رونق نگل لی تھی۔ جہاں عام دنوں میں لوگوں کی چہل پہل، آوازوں کا شور اور خرید و فروخت کا ہنگامہ ہوتا تھا، وہاں آج ایک غیر معمولی خاموشی بسی ہوئی تھی۔

گاہکوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ دکاندار اپنی اپنی دکانوں میں خاموش بیٹھے، ایئر کنڈیشنروں کی ٹھنڈی ہوا میں پناہ لیے، باہر برستی آگ سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر گرمی ایسی بے رحم تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے اس کی تپش دیواروں کو بھی چیرتی ہوئی اندر تک اتر آئی ہو۔

گرمی صرف انسانوں ہی پر نہیں، ہر ذی روح پر قیامت بن کر ٹوٹ رہی تھی۔ آوارہ کتے اور بلیاں زبانیں نکالے ایک سائے سے دوسرے سائے کی تلاش میں بھٹک رہے تھے، مگر سائے بھی جیسے سکڑ کر کہیں گم ہو گئے تھے۔ دور دور تک نہ کوئی ٹھنڈی جگہ تھی جہاں وہ چند لمحے دم لے سکتے، نہ پانی کا کوئی قطرہ جو ان کے حلق کی آگ بجھا دیتا۔

کئی دنوں سے بارش نہیں ہوئی تھی۔ گھاس جل کر ایسے زرد پڑ چکی تھی، جیسے اس کی رگوں سے زندگی کا آخری رس بھی نچوڑ لیا گیا ہو۔ درختوں کے پتے گرد کی موٹی تہہ میں لپٹے ہوئے تھے۔ مدت سے کسی پھوار نے انہیں چھوا نہ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بھی خاموشی سے سانس لینے کی جدوجہد کر رہے ہوں، مگر ہر سانس ان پر بوجھ بنتی جا رہی ہو۔

زمین تندور کی مانند دہک رہی تھی۔ اس کے سینے سے ایسی تپش اٹھتی تھی کہ قدم رکھتے ہوئے یوں لگتا جیسے آگ پر چل رہے ہوں۔ کہیں کوئی بے خبر چند قطرے پانی کے گرا دیتا تو وہ پل بھر میں بھاپ بن کر اڑ جاتے اور دھوئیں کی باریک سی لہر فضا میں یوں بلند........

© Daily Urdu (Blogs)