menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Salgirah: Khushi, Rivayat Ya Waqt Ka Fareb?

18 0
saturday

سالگرہ: خوشی، روایت یا وقت کا فریب؟

آج حسبِ معمول میں اپنی ڈیوٹی پر پہنچا، ایک دوست سے ملاقات ہوئی، رسمی حال احوال کے بعد گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ باتوں باتوں میں اس نے بتایا کہ اگلے مہینے اس کی سالگرہ ہے اور اس نے اس موقع پر چھٹیاں بھی لے رکھی ہیں۔ میں نے تجسس سے پوچھا: سالگرہ پر چھٹیاں لینے کی آخر کیا منطق ہے؟

یہ محض ایک سوال تھا، لیکن اس کے پیچھے ایک وسیع تر سوال پوشیدہ تھا۔ میں نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہمیں کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ سالگرہ منانے کی روایت کی عقلی بنیاد کیا ہے؟ ہم آخر کس بات کا جشن مناتے ہیں؟ اس حقیقت کا کہ ہماری عمر کا ایک سال اور گزر گیا؟ اس بات کا کہ ہم دنیا میں آئے تھے؟ یا اس اجتماعی روایت کا جسے ہم نے بغیر زیادہ غور و فکرکے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے؟

یہ سوال کسی فرد کی خوشی پر اعتراض نہیں تھا، بلکہ اس خوشی کے تصور کو سمجھنے کی ایک کوشش تھی۔ انسانی زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم معمول سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ان کے بارے میں سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، کیونکہ معاشرہ انہیں پہلے ہی معمول، مناسب اور خوشی کا سبب قرار دے چکا ہوتا ہے۔ مگر کسی عمل کا مقبول ہونا اس کے معقول ہونے کی ضمانت نہیں، بالکل اسی طرح جیسے کسی روایت کا پرانا ہونا اسے لازماً بے معنی نہیں بنا دیتا۔

لہٰذا سالگرہ کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ اسے کیوں مناتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے پیچھے موجود مقصد اتنا بامعنی ہے کہ اسے ایک خاص دن، ایک خاص تقریب اور بعض اوقات باقاعدہ چھٹیوں کے ذریعے منانا معقول قرار پائے؟

1۔ ہم آخر کس چیز کا جشن مناتے ہیں؟

سالگرہ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کے بعد ہر سال ایک مخصوص تاریخ دوبارہ آتی ہے اور اس تاریخ کو اس کی عمر میں ایک سال کا اضافہ شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی منطقی فرق کو سمجھنا ضروری ہے: عمر کا بڑھنا ایک حیاتیاتی حقیقت ہے، جبکہ اس حقیقت کے کسی مخصوص دن کو جشن کا موقع بنانا ایک سماجی انتخاب ہے۔

زمین سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتی ہے، کیلنڈر ایک سال کی تکمیل درج کرتا ہے اور انسان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر فطرت نے اس اضافے کے ساتھ نہ کوئی کیک وابستہ کیا ہے، نہ موم بتیاں، نہ تحائف اور نہ ہی چھٹیوں کی کوئی ہدایت۔

یہ تمام چیزیں انسانی معاشرے کی تخلیق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عمر میں اضافہ ایک مسلسل عمل ہے تو اس کے کسی ایک دن کو غیر معمولی اہمیت کیوں دی جائے؟ انسان کی زندگی میں تبدیلی صرف سالگرہ کے دن نہیں آتی۔ اس کے خیالات روز بدلتے ہیں، جسم ہر روز عمر رسیدہ ہوتا ہے، تجربات ہر روز اس کی شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں اور موت سے اس کا فاصلہ بھی مسلسل کم ہوتا رہتا ہے۔

پھر ایک مخصوص تاریخ کو باقی دنوں سے ممتاز کرنے کی معقول وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں علامتی مواقع درکار ہوتے ہیں۔ ہر حقیقت کو روزانہ یاد کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ بعض تاریخوں کو یاد دہانی کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔

یہ جواب اپنی جگہ معقول ہے۔ لیکن اس سے ایک نئی بات واضح ہوتی ہے: سالگرہ کی اہمیت تاریخ میں بذاتِ خود موجود نہیں، بلکہ اس معنی میں پیدا ہوتی ہے جو انسان اس تاریخ کو دیتا ہے۔

2۔ وقت کا حساب اور وقت کی حقیقت

فلسفے کی سطح پر سالگرہ ایک دلچسپ تضاد سامنے لاتی ہے۔ ہم عمر بڑھنے کو عموماً ترقی، کامیابی اور زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے طور پر دیکھتے ہیں، حالانکہ وقت کا گزرنا اپنے اندر نہ کامیابی ہے اور نہ ناکامی۔ وقت محض گزرتا ہے، اس کے اندر انسان کیا کرتا ہے، وہی اس کی زندگی کی معنویت متعین کرتا ہے۔

ایک شخص کی عمر تیس سال ہو سکتی ہے، مگر اس نے اپنی زندگی میں کوئی قابلِ ذکر مقصد حاصل نہ کیا ہو۔ دوسرا شخص اسی عمر میں علم، کردار، خدمت اور تجربے کے اعتبار سے غیر معمولی پختگی حاصل کر چکا ہو۔ دونوں کی عمر برابر ہے، مگر ان کی زندگیوں کا حاصل مختلف ہو سکتا ہے۔

اس لیے عمر کی مقدار اور زندگی کے معیار کو ایک ہی پیمانے پر نہیں ناپا جا سکتا۔ سالگرہ ہمیں بتاتی ہے کہ کتنا وقت گزر گیا، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ اس وقت میں ہم نے کیا حاصل کیا، کیا سیکھا، کس کے کام آئے، اپنی شخصیت میں کیا تبدیلی پیدا کی اور اپنے وجود کو کتنا بامعنی بنایا۔

یہاں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: اگر زندگی کا ایک اور سال گزر گیا ہے تو کیا جشن اس بات کا ہونا چاہیے کہ عمر میں اضافہ ہوا، یا اس........

© Daily Urdu (Blogs)