menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sifarish, Ka Nasoor Aur Kam Zarf Ki Hukumrani

29 0
29.03.2026

سفارش کا ناسور اور کم ظرف کی حکمرانی

حکیم لقمان نے انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں کو علم و حکمت کے جس ترازو میں تولا ہے، اس کی کڑوی بازگشت آج کے بگڑے ہوئے حالات میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ ان کا یہ فرمان کہ "زندگی میں موت سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ لمحہ ہے جب کوئی صاحبِ ظرف کسی کم ظرف کا محتاج ہو جائے"، محض ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا وہ رستا ہوا ناسور ہے جس نے اخلاقیات کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ آج ہم ایک ایسے دور کے اسیر ہیں جہاں قابلیت، شرافت اور ظرف کو جوتوں تلے روند کر کم ظرفی، چاپلوسی اور بدتہذیبی کے علم بلند کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ مقامِ عبرت ہے جہاں سچ بولنا خطا اور خاموش رہنا گناہ بن چکا ہے۔

معاشرے کی بدنصیبی کا سفر تب شروع ہوتا ہے جب انسانیت کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ جب علم کی جگہ دولت اور کردار کی جگہ مکاری لے لیتی ہے، تو صاحبِ ظرف گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ کم ظرفوں کے پاس وسائل آگئے ہیں، اصل المیہ تو یہ ہے کہ نظام کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے اور ایک بااصول، غیرت مند اور وضع دار انسان اپنی بنیادی ضرورتوں یا جائز حق کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر........

© Daily Urdu (Blogs)