menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Beyond Ethnicity

18 0
wednesday

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب نوجوان نسل اپنی اجتماعی قوت کا ادراک کر لیتی ہے تو ایوانِ اقتدار کی دیواریں لرزنے لگتی ہیں۔ وقت کے فرعون، خواہ کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، شعور کے سیلاب کے سامنے زیادہ دیر بند نہیں باندھ سکتے۔ نیپال ہو، بنگلہ دیش ہو یا ہندوستان، ان ممالک میں نوجوانوں نے کئی مواقع پر ثابت کیا کہ جب ایک قوم اپنے اجتماعی مفاد کو ذاتی وابستگیوں پر ترجیح دے دے تو اقتدار کے سنگین دروازے بھی موم کی طرح نرم ہو جاتے ہیں۔

مگر پاکستان کا المیہ صرف حکمرانوں کی ناکامیاں نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہرا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف معاشی بحران، بیروزگاری، مہنگائی، تعلیمی زوال یا ادارہ جاتی کمزوری نہیں۔ اصل مسئلہ وہ فکری زنجیریں ہیں جو عوام کے ذہنوں میں ڈال دی گئی ہیں۔ یہ زنجیریں لوہے کی نہیں بلکہ قومیت، مسلک، لسانیت، علاقائیت اور جذباتی وابستگیوں کی بنی ہوئی ہیں، جنہوں نے اجتماعی شعور کو ٹکڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔

پاکستان کا نوجوان جب اپنے حقوق کی بات کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے کوئی دلیل نہیں بلکہ ایک شناخت کھڑی کر دی جاتی ہے۔ وہ سوال کرتا ہے تعلیم کہاں ہے؟ جواب ملتا ہے تم فلاں قوم کے ایجنٹ ہو۔ وہ پوچھتا ہے روزگار کیوں نہیں؟ جواب دیا جاتا ہے تم فلاں صوبے کے خلاف سازش کر رہے ہو۔ وہ احتساب کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے مسلک، زبان، نسل اور علاقے کے خانوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے ہاں مسئلہ کبھی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ چند لمحوں میں شناخت کی جنگ بن جاتا ہے۔

فرض کیجیے کہ کسی وزیرِ تعلیم کی ناقص کارکردگی کے خلاف نوجوان آواز بلند کریں۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں بحث اس وزیر کی کارکردگی پر ہوگی،........

© Daily Urdu (Blogs)