menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Traffic Hadsat

23 0
17.08.2026

حادثے آج کل اس قدر عام ہو گئے ہیں کہ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی خود ایک حادثہ بن گئی ہے۔ کہیں گاڑی درخت سے ٹکرا جاتی ہے، کہیں موٹر سائیکل کار کے نیچے آ جاتی ہے اور کہیں چند سیکنڈز میں تیز رفتاری کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیتی ہے۔ لاہور کی کینال روڈ پر پیش آنے والا حالیہ حادثہ بھی اسی سلسلے کی ایک المناک کڑی ہے۔ ایک تیز رفتار کار نے پانچ نوجوان زندگیوں کو نگل لیا۔

حادثات کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جیسے تیز رفتاری، لاپروائی، ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنا، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال، گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ سواریاں بٹھانا اور سڑک پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ، تجاوزات، سڑکوں کی حالت زار وغیرہ۔

ایک زمانے میں نیو خان کی بسیں تیز رفتاری میں مشہور تھیں۔ مسافر خصوصی طور پر ان بسوں میں سفر کرتے تھے کہ مفت کی ریس بھی دیکھنے کو ملے گی اور وقت سے ایک آدھ گھنٹہ پہلے منزل مقصود پر بھی پہنچیں گے۔ بچپن میں سنا تھا کہ نیو خان کمپنی میں صرف اسی ڈرائیور کو ملازمت دی جاتی تھی جس نے دو چار بندے بس کے نیچے دئیے ہوئے ہوں۔ معلوم نہیں کہ یہ حقیقت تھی یا محض فسانہ۔

تعجب ہے کہ آئے روز ٹریفک حادثات کی خبریں آتی رہتی ہیں مگر ان سے سبق نہیں سیکھا جاتا کہ احتیاط برتی جائے۔ غیر محتاط ڈرائیونگ سے سڑک پر صرف دوسروں کی زندگی ہی خطرے میں نہیں ہوتی بلکہ ڈرائیور خود بھی اسی خطرے کا حصہ ہوتا ہے۔

صبح کے وقت، جب دفاتر اور سکولوں کے اوقات شروع ہونے والے ہوتے ہیں، سڑکوں پر ایک عجیب افراتفری دکھائی دیتی ہے۔ ہر شخص کو جلدی ہے۔ گاڑیاں تیز رفتاری سے دوڑتی ہیں، موٹر سائیکلیں دائیں بائیں یہاں تک کہ فٹ پاتھ کے اوپر تک سے نکلتی ہیں اور ڈرائیور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر دفتر یا سکول وقت پر پہنچنا ہے تو گھر سے دس پندرہ منٹ پہلے نکلنے سے کیا آفت نازل ہو جائے گی؟ چند منٹ پہلے نکل کر آہستگی اور اطمینان کے ساتھ پہنچنا زیادہ بہتر ہے یا پانچ دس منٹ بچانے کے لیے پوری زندگی داؤ پر لگا دینا؟

کامن سینس اگر ہو، تو کہتی ہے کہ کم از کم پندرہ منٹ پہلے ہی چلا جائے کہ کیا معلوم کب ٹائر پنکچر ہو جائے یا پٹرول........

© Daily Urdu (Blogs)