Akhir Shohar Bivi Ko Marta Kyun Hai?
آخر شوہر بیوی کو مارتا کیوں ہے؟
گوجرانوالہ کی عروج امجد کی وہ ویڈیو دیکھی جس میں وہ تشدد کے بعد اپنی حالت دکھا رہی تھیں، تو سب سے پہلے یہی بات ذہن میں آئی کہ آخر کسی مرد کو اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت آتی کہاں سے ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے میں نے کچھ نفسیاتی اور سماجی مطالعات پڑھے، چند نظریات دیکھے اور اس موضوع پر ماہرین کی گفتگو بھی سنی۔ ان سب میں ایک بات بار بار سامنے آئی کہ ہم عموماً ہاتھ اٹھنے کو تشدد کی ابتدا سمجھتے ہیں، حالانکہ اکثر ہاتھ تو بہت بعد میں اٹھتا ہے۔ اس سے پہلے مرد کے ذہن میں یہ بات پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ بیوی اس کے برابر نہیں، تابع ہے۔ اس کے نزدیک عورت کی الگ مرضی، اپنی رائے اور انکار کا حق ہی نہیں، کیونکہ وہ اسے شریک نہیں بلکہ اپنی اطاعت کی پابند ہستی سمجھتا ہے۔ پھر اس کا انکار رائے نہیں رہتا، سرکشی معلوم ہونے لگتا ہے۔
ہماری عورتوں کو شروع ہی سے یہ سبق دیا جاتا ہے کہ مرد کے غصے سے بچ کر رہو۔ "مرد ہے، غصہ آ جاتا ہے"، "تم جواب نہ دیا کرو"، "گھر عورت ہی بساتی ہے"۔ پھر ظلم مرد کرتا ہے اور قصور عورت میں تلاش کیا جاتا ہے۔ اسی سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے ایسا کیا کیا تھا کہ وہ تمہیں مارنے پر آ گیا۔ لنڈی بینکرافٹ، جنہوں نے گھریلو تشدد، بالخصوص اپنی شریکِ حیات پر جبر کرنے والے مردوں کے رویّوں پر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک........
