Rozana 11 Bachon Ki Cheekhein, Aur Hum Khamosh Hain
روزانہ 11 بچوں کی چیخیں، اور ہم خاموش ہیں
جب ایک بچہ آنکھ کھولتا ہے تو دنیا اس کے لیے رنگ برنگے کھلونوں، بے ساختہ قہقہوں اور ماں کی محفوظ آغوش کا استعارہ ہوتی ہے۔ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جس معاشرے میں وہ سانس لینے جا رہا ہے، وہاں اس کی معصومیت ایک خطرہ بن چکی ہے۔ جہاں گھر کی چار دیواری ہو یا باہر کی کھلی گلیاں، اب کوئی بھی مقام بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا۔ اخبارات کے صفحات اور ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر روزانہ ابھرنے والی خبریں اب محض انفرادی واقعات نہیں رہیں، بلکہ یہ اس گہرے سماجی و اخلاقی زوال کی داستانیں بن چکی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ہمارے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ جب معاشرے کے سب سے کمزور، ناتواں اور معصوم ترین طبقے یعنی بچوں پر ظلم کی انتہا ہو جائے، تو اس معاشرے کے پاس اپنے مہذب ہونے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "ساحل" کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک بار پھر ہمارے اس اجتماعی غفلت کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے، جہاں ہماری ریاستی ترجیحات اور سماجی حس دونوں ہی مفلوج ہو چکی ہیں۔
ساحل کی تازہ ترین رپورٹ کے اعداد و شمار اس قدر ہولناک اور روح فرسا ہیں کہ انہیں پڑھ کر کسی بھی باشعور انسان کا دل دہل جاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک بھر میں 1914 بچے زیادتی........
