menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Akhtar Usman Ka Dawa Aur Hamara Rawaiya

18 0
18.05.2026

اختر عثمان کا دعویٰ اور ہمارا رویہ

تنقید اور اختلاف کسی بھی زندہ اور متحرک معاشرے کے بنیادی اجزاء ہیں۔ یہی وہ قوتیں ہیں جو فکر کو جلا بخشتی ہیں، علمی رویّوں کو وسعت دیتی ہیں اور کسی بھی معاشرے کو جمود سے نکال کر ارتقا کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نہ تو تنقید کو اس کے حقیقی معنوں میں قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی اختلافِ رائے کو ایک مثبت علمی رویّہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اوقات اختلاف کو ذاتی عناد اور تنقید کو تضحیک کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے، جو کسی بھی علمی روایت کے لیے نقصان دہ ہے۔

گزشتہ دنوں معروف نقاد اور دانشور اختر عثمان نے شاہد ریاض گوندل کے ساتھ گفتگو میں یہ جملہ کہا کہ "غالب کے ایک شعر سے پُورا علامہ اقبال نکل آتا ہے"۔ یہ ایک نہایت بڑا اور چونکا دینے والا دعویٰ تھا، جس پر علمی و تحقیقی بحث ہونی چاہیے تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس بیان پر سنجیدہ تحقیق کے بجائے سطحی........

© Daily Urdu (Blogs)