Tel Aviv, Jaffa Aur Israel Ki Tareekh
تل ابیب، یافا اور اسرائیل کی تاریخ
یہ نومبر 1917ء کی ایک ٹھنڈی شام تھی۔ لندن کے ایک کمرے میں ایک خط لکھا جا رہا تھا۔ الفاظ سادہ تھے مگر اثرات صدیوں پر پھیلنے والے تھے۔ یہ خط برطانوی وزیرِ خارجہ آرتھر بالفور لکھ رہا تھا اور مخاطب تھا ایک بااثر یہودی رہنما۔ اس خط کو دنیا آج اعلامیہ بالفور 1917ء کے نام سے جانتی ہے۔ اس ایک صفحے نے مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر بدل دی اور تل ابیب و یافا کی کہانی کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا۔ مگر اس خط کو سمجھنے کے لیے ہمیں واپس جانا ہوگا، ہزاروں سال پیچھے، یافا کی طرف۔
یافا، بحیرۂ روم کے کنارے آباد ایک قدیم شہر، جس کی گلیوں میں تاریخ سانس لیتی ہے۔ یہ شہر تقریباً چار ہزار سال پرانا ہے۔ یہاں سے کبھی فرعونوں کے جہاز روانہ ہوتے تھے، کبھی رومی سپاہی اترتے تھے اور کبھی مسلمان فاتحین یہاں سے گزر کر آگے بڑھتے تھے۔ یہ شہر کبھی ایک قوم کا نہیں رہا، بلکہ ہر اس طاقت کا رہا جو اسے حاصل کر سکی۔
یافا پر کبھی فارسی سلطنت کے پرچم بھی لہرا چکا ہے، مگر وہ ایک وسیع سلطنت تھی، آج کے ایران جیسی قومی ریاست نہیں۔ پھر رومی آئے، بازنطینی آئے، مسلمان آئے، صلیبی آئے اور آخرکار یہ شہر عثمانی سلطنت کے قبضے میں چلا گیا، جہاں یہ صدیوں تک رہا۔
انیسویں صدی کے آخر میں دنیا بدل رہی تھی۔ یورپ میں قوم پرستی ابھر رہی تھی اور یہودی، جو صدیوں سے........
