menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taaj Ya Muhabbat?

32 0
28.06.2026

محبت اور اقتدار کبھی ایک دوسرے کے دوست نہیں رہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، جہاں محبت نے دروازہ کھٹکھٹایا، اقتدار نے اکثر محل چھوڑ دیا اور جہاں اقتدار نے ڈیرہ ڈالا، وہاں محبت نے خاموشی سے رخصت ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔ شاید اسی لیے دنیا کے بڑے بادشاہوں، جرنیلوں اور حکمرانوں کی زندگیاں فتوحات سے زیادہ ان محبتوں کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں جنہوں نے ان کی قسمت کا رخ موڑ دیا۔

برطانیہ کی تاریخ میں بھی ایک ایسا دن آیا تھا جب پوری سلطنت حیران رہ گئی۔ لندن کی سڑکیں آباد تھیں، پارلیمنٹ قائم تھی، برطانوی سلطنت دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی حصے پر حکمرانی کر رہی تھی، سورج اس سلطنت میں غروب نہیں ہوتا تھا اور بکنگھم پیلس کے دروازوں کے پیچھے ایک نوجوان بادشاہ ایک ایسا فیصلہ کرنے والا تھا جس کی مثال اس سے پہلے نہ ملی تھی اور نہ بعد میں دہرائی گئی۔

یہ بادشاہ ایڈورڈ ہشتم تھا۔ ایڈورڈ ہشتم 23 جون 1894ء کو لندن کے وائٹ لاج میں پیدا ہوا۔ اس کا پورا نام ایڈورڈ البرٹ کرسچین جارج اینڈریو پیٹرک ڈیوڈ تھا، لیکن خاندان اور قریبی لوگ اسے "ڈیوڈ" کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ مستقبل کے بادشاہ جارج پنجم کا بڑا بیٹا تھا، اس لیے اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کا مقدر بھی طے ہو چکا تھا۔ اسے ایک دن برطانیہ کا بادشاہ بننا تھا۔

شاہی خاندان میں پیدا ہونے والے بچوں کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں ہوتا۔ ان کے کھلونے بھی پروٹوکول کے تابع ہوتے ہیں اور ان کی مسکراہٹ بھی۔ ایڈورڈ کی زندگی بھی اسی سخت نظم و ضبط کے ساتھ گزری۔ اس کے والد انتہائی سخت مزاج تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ہر لمحہ اس تاج کے قابل نظر آئے جو ایک دن اس کے سر پر رکھا جانا تھا۔

ایڈورڈ نے شاہی تعلیم حاصل کی، فوج میں تربیت لی، پہلی جنگِ عظیم کے دوران مختلف فوجی محاذوں کا دورہ کیا،........

© Daily Urdu (Blogs)