menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shor Ke Zamane Mein Daleel

16 1
18.01.2026

3 مارچ 2015ء کو قومی اسمبلی کے فلور پر ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا۔ ایوان میں شور تھا، حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان تلخی عروج پر تھی۔ اسی ہنگامے میں محمود خان اچکزئی نے تقریر کے لیے مائیک سنبھالا۔ ان کا لہجہ بلند نہیں تھا، آواز میں غصہ نہیں تھا، مگر الفاظ غیر معمولی طور پر سخت تھے۔ انہوں نے ایوان کے ریکارڈ پر کہا کہ "اگر اس ملک کو چلانا ہے تو آئین کے مطابق چلانا ہوگا، کسی اور طریقے سے نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آئین کو پیچھے دھکیلا گیا، ریاست کمزور ہوئی"۔

یہ تقریر قومی اسمبلی کی کارروائی کا حصہ بنی، اخبارات میں چھپی اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث رہی۔ یہ کوئی وقتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ اس سیاسی فکر کا اظہار تھا جس پر محمود خان اچکزئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ آج جب وہ اسی ایوان میں اپوزیشن لیڈر کے منصب پر فائز ہوئے ہیں تو یہ تقریر محض ماضی کا حوالہ نہیں رہی، بلکہ حال کی ذمہ داری بن چکی ہے۔

پاکستان میں اپوزیشن لیڈر صرف حکومت پر تنقید کرنے والا نہیں ہوتا، وہ ریاستی طاقت، پارلیمان، اسٹیبلشمنٹ اور عوام کے درمیان ایک نازک توازن کا نام ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی اس کردار میں کیسے نظر آئیں گے؟

محمود خان اچکزئی پاکستانی سیاست کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جن کا سیاسی سفر کسی ایک دور یا ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ وہ پشتون قوم پرست سیاست کے نمایاں چہرے ہیں، مگر ان کی سیاست محض قوم پرستی تک محدود نہیں رہی۔ ان کا بنیادی مقدمہ ہمیشہ پارلیمان کی بالادستی، آئین........

© Daily Urdu (Blogs)