Sapiens: Aik Mushtarak Khwab Ki Kahani
سیپینز: ایک مشترک خواب کی کہانی
ایک دفعہ لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے ایک ٹرک کے پیچھے لکھا دیکھا، "وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ کسی کو نہیں ملتا"۔ آگے ایک شاندار گاڑی تھی، اس کے ساتھ ایک پرانی مہران بھی چل رہی تھی اور دونوں کے بیچ میں ایک موٹر سائیکل والا اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوا کے سینے پر لکیر کھینچ رہا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ سڑک نہیں، پوری انسانی تاریخ ہے۔ کوئی قافلہ ابھی پہاڑوں سے اترا ہے، کسی نے ابھی آگ جلانا سیکھی ہے، کوئی پہلا بیج زمین میں ڈال رہا ہے، کوئی پہلا سکہ ڈھال رہا ہے اور کوئی بینک کے موبائل پیغام پر اپنے کھاتے کی رقم دیکھ کر مطمئن ہو رہا ہے۔ یہی "سیپینز" کی کہانی ہے۔ یووال نوح ہراری اس کتاب میں یہی پوچھتا ہے کہ آخر ہم انسان، خاص طور پر ہومو سیپینز، یہاں تک کیسے پہنچے؟ ہم کیوں؟ اور باقی سب کیوں پیچھے رہ گئے؟
ہراری کہتا ہے انسان شروع سے آسمان کا شہسوار نہیں تھا۔ کوئی دو ڈھائی ملین برس پہلے وہ بھی جنگل کے دوسرے جانوروں کی طرح ایک معمولی سی مخلوق تھا۔ نہ اس کے پاس سلطنت تھی، نہ قانون، نہ بینک، نہ پارلیمان، نہ سوشل میڈیا کی عدالت۔ وہ جانوروں ہی کی طرح ڈرتا، بھاگتا، شکار کرتا اور مر جاتا تھا۔ اس دنیا میں صرف ہم ہی نہیں تھے، انسان کی کئی اقسام تھیں۔ کہیں ننھے قد کے انسان، کہیں برفانی علاقوں کے عادی، کہیں طاقتور جسم والے۔ گویا نوعِ انسانی ایک ہی درخت کی کئی شاخیں تھیں، مگر پھر ایک شاخ باقی رہ گئی اور باقی سب ٹوٹ گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اس شاخ میں ایسا کیا تھا؟
جواب زبان ہے، مگر صرف بولنے کی نہیں، کہانی گھڑنے کی زبان۔ شیر بھی آواز نکالتا ہے، بندر بھی اشارے کرتا ہے، مگر انسان نے صرف خطرہ بتانا نہیں سیکھا، اس نے افسانہ بنانا سیکھ لیا۔ اس نے قبیلے کو بتایا کہ ہم ایک........
