menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baghcha Saraye Ka Akhri Falsafi Khan

28 0
09.09.2026

باغچہ سرائے کا آخری فلسفی خان

باہر باغچہ سرائے (Bakhchisaray) کے شاہی محل کے صحن میں لگے سنگِ مرمر کے فوارے سے پانی کے گرنے کی مدہم آواز آ رہی ہے۔ قصرِ خانات کے اس خلوت خانے میں، جہاں کی دیواریں خوبصورت کشیدہ کاری، فارسی خطاطی اور فرانسیسی شیشوں سے مزین ہیں، میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں۔ میری میز پر پیرس کے فلسفیوں کی کتابیں، موزارٹ کی کلاسیکی موسیقی کے کچھ نوٹس، میری اپنی لکھی ہوئی فارسی غزلوں کا دیوان اور وہ چاندی کے زرد دستانے پڑے ہیں جنہیں پہن کر میں نے زندگی بھر اپنے گھوڑے کی لگام تھامی۔ میری عمر اس وقت باون برس ہے، لیکن اس آخری سرمائی مہم کی ہولناک برفیلی ہواؤں اور جسم میں پھیلے اس زہر آلود بخار نے میری نبض کو ڈبو دیا ہے۔

لوگ مجھے ایک رومانوی خان، ایک فلسفی، شاعر اور سنگِ مرمر سے "آنسوؤں کا فوارہ" (Fountain of Tears) تراشنے والا ایک حساس دل انسان کہتے ہیں۔ لیکن اس وقت، جب قرم (Crimea) کی یہ مٹی اپنے خان کو الوداع کہنے کے لیے تیار ہے، میرا ذہن اس خوبصورت محل سے دور، یوکرین (Ukraine) اور مالدووا (Moldova) کے ان وسیع، برفیلی میدانوں کی طرف جا رہا ہے جہاں بنو چنگیز کے آخری عقابوں نے اڑتی ہوئی برفیلی آندھیوں کے درمیان روس کی عظیم سلطنت کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔

میری کہانی کا آغاز بحیرہ اسود (Black Sea) کے شمالی ساحلوں پر واقع جزیرہ نما قرم (Crimea) میں ہوا تھا۔ میں کوئی عام جنگجو نہیں تھا، بلکہ میرا تعلق دشتِ قپچاق کے ان تاتاری شہزادوں سے تھا جن کی رگوں میں براہِ راست چنگیز خان کا خون دوڑ رہا تھا۔ ہماری سلطنت، "کریمیائی خانات" (Crimean Khanate)، مشرقی یورپ میں اسلام کا آخری اور سب سے مضبوط قلعہ تھی، جو عثمانیہ خلافت کے ساتھ ایک خود مختار اور تزویراتی اتحاد (Autonomous Vassal) میں جڑی ہوئی تھی۔

بچپن ہی سے میری تربیت دو متضاد دنیاؤں میں ہوئی تھی۔ ایک طرف، میں نے تاتاری ملاحوں اور گھڑ سواروں کے ساتھ........

© Daily Urdu (Blogs)