Ali Ahmed Kurd Aur Nai Wukla Tehreek
علی احمد کرد اور نئی وکلاء تحریک
عدالتی تعطیلات کے بعد سینئر قانون دان علی احمد کرد کی قیادت میں وکلاء ایکشن کمیٹی کی جانب سے نئی تحریک چلانے کے اعلان نے ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پریس کانفرنس میں جس انداز میں عدالتی نظام، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار اور حالیہ آئینی ترامیم پر تنقید کی، اس سے واضح ہوتا ہے کہ وکلاء قیادت آنے والے دنوں میں ایک بھرپور سیاسی و قانونی مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ علی احمد کرد نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں اعلان کیا کہ یہ تحریک صرف 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا مقصد عوام کا سیاسی اور عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
بلاشبہ علی احمد کرد پاکستان کی وکلاء سیاست کا ایک بڑا نام ہیں۔ ججز بحالی تحریک کے دوران ان کا شمار صف اول کے رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ ان کی تقاریر، جوش و جذبہ اور آمریت کے خلاف ان کا مؤقف اس تحریک کی شناخت بن گیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کی صورتحال 2007 اور 2008 جیسی ہے؟ اور کیا وکلاء برادری ایک بار پھر اسی جذبے اور یکسوئی کے ساتھ کسی نئی تحریک کا حصہ بنے گی؟ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ججز........
