Saneha Gul Plaza
سانحۂ گل پلازہ محض ایک عمارت کے ملبے میں دبنے والی کہانی نہیں، یہ ایک ایسے اجتماعی زخم کا نام ہے جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جب ریسکیو آپریشن کے مکمل ہونے، عمارت کے سیل کیے جانے، 73 انسانی باقیات کے پروسیس ہو جانے اور 16 باقیات کے بدستور ناقابلِ شناخت ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعداد و شمار انسانی سانحات کی جگہ لے رہے ہوں، حالانکہ ان نمبروں کے پیچھے زندہ دلوں کی دھڑکنیں، خاندانوں کی امیدیں اور ماں باپ کی دعائیں دفن ہیں۔ عمارت سیل کئے جانے کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا یہ دروازہ صرف ایک خستہ عمارت کا بند ہوا یا ان خاندانوں کی امیدوں کا بھی، جن کے پیارے اب تک لاپتا ہیں؟
ریسکیو آپریشن اپنی تکنیکی حدود تک پہنچ چکا ہے، جدید آلات، ماہر ٹیمیں اور مسلسل محنت کے باوجود اب مزید کسی معجزے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس حقیقت کو مان لینا شاید سب سے زیادہ کرب ناک مرحلہ ہے، کیونکہ سانحات میں اصل امتحان صرف ریاستی اداروں کی استعداد کا نہیں ہوتا بلکہ سماج کے اجتماعی ضمیر کا بھی ہوتا ہے۔ 79 لاپتا افراد میں سے 13 کے ورثا کا اب تک ڈی این اے سیمپل فراہم نہ کرنا محض ایک انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی المیے کی علامت ہے۔........
