menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tareekh Ke Qehqahe

28 0
08.07.2026

وائٹ ہاؤس کے وسیع ہال میں سجے ضیافت نامے، کرسٹل کے جام اور سفارتی مسکراہٹوں کے درمیان جب دو جملوں نے ایک دوسرے کا تعاقب کیا تو یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں پرانی تاریخ اچانک اپنی گرد جھاڑ کر محفل میں آ بیٹھی ہو۔ ایک طرف امریکی صدر کا وہ معروف فقرہ کہ "اگر امریکہ نہ ہوتا تو آج یورپ والے جرمن بول رہے ہوتے"، دوسری طرف برطانوی شاہ چارلس سوم کا برجستہ جواب کہ "اگر ہم نہ ہوتے تو آپ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے"۔

حاضرین نے اسے خوش طبعی سمجھ کر تالیاں بجائیں، مگر حقیقت میں یہ قہقہے تاریخ کے دو ایسے لشکروں کی بازگشت تھے جو اب بندوقوں سے نہیں بلکہ بیانیوں، یادداشتوں اور قومی فخر کے ذریعے اپنی اپنی فتوحات کا حساب مانگ رہے ہیں۔ گویا اقتدار کے ایوان میں دو کردار نہیں بلکہ دو سلطنتیں آمنے سامنے تھیں، جن میں ہر ایک اپنے ماضی کو موجودہ سیاسی سرمایہ بنا کر پیش کر رہی تھی۔ یہ مکالمہ اس حقیقت کی علامت تھا کہ عالمی سیاست میں کبھی کبھی ایک مختصر جملہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل تاریخ سے زیادہ گہرا پیغام دے جاتا ہے۔

اگر تاریخ کو ایک طویل دریا تصور کیا جائے تو اس کے کناروں پر آباد قومیں صرف پانی سے........

© Daily Urdu (Blogs)