menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sila Rehmi o Qata Taluqi

36 0
03.10.2026

رشتہ ناطہ کو توڑنا اوررشتہ داری کا لحاظ نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی براعمل ہے صلہ رحمی واجب اور قطع تعلقی حرام ہے مگر افسوس ہمارے معاشرے میں یہ بری عادت بھی پائی جاتی ہے۔ ہمارے رشتہ دار ہمارے ساتھ حسن سلوک کریں یا نہ کریں شریعت مطہرہ ہمیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا درس دیتی ہے۔ صلہ رحمی کا مطلب رشتے کو جوڑنا ہے اور ان کے ساتھ یعنی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنا جبکہ رشتہ داری کو توڑنا اور ان کے ساتھ نیکی اور اچھا سلوک نہ کر ناقطع رحمی یعنی تعلق توڑنا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتہ داروں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ تعالیٰ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے (النساء 1)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: پس تم سے اس بات کی توقع ہے کہ اگر تم والی بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتے ناطے کاٹ دو یہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ پس انہیں بہرہ کردیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں (محمد ﷺ22-23)۔

ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے: اور یاد کرو جب بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیاکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں، باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور قرابت داروں کے ساتھ بھلائی کرنا۔ (البقرہ 83) یہ حکم آپ ﷺ کی امت........

© Daily Urdu (Blogs)