Veeran Station Ka Noha, Zang Alood Patrion Se Bikhre Hue Rishton Tak
ویران اسٹیشن کا نوحہ، زنگ آلود پٹریوں سے بکھرے ہوئے رشتوں تک
بندن میاں آج ایک ایسے ریلوے اسٹیشن کے شکستہ بینچ پر بیٹھے تھے جہاں وقت تو چلتا رہا مگر ترقی کی گاڑی شاید کئی دہائیاں پہلے کسی نامعلوم سگنل پر رک گئی تھی صبح کی دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہیں تھی اور سورج کی کرنیں زنگ آلود پٹریوں پر ایسے بکھری ہوئی تھیں جیسے کسی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں امید کے آخری چراغ ٹمٹما رہے ہوں۔ اسٹیشن کی عمارت دور سے یوں دکھائی دیتی تھی جیسے کسی زمانے کی حسین دوشیزہ بڑھاپے کی جھریوں میں اپنی جوانی کی تصویریں تلاش کر رہی ہو۔ دیواروں سے اکھڑا ہوا پلستر خاموشی سے یہ گواہی دے رہا تھا کہ یہاں کبھی زندگی کا شور تھا یہاں کبھی محبتوں کی آمد و رفت تھی یہاں کبھی مسافروں کے خواب اترتے تھے اور منزلوں کی خوشبو چڑھتی تھی مگر آج ہر طرف ایک ایسی خاموشی تھی جو انسان کے دل میں اتر کر سوال بن جاتی ہے اور جب انہوں نے چمڑے کے چوڑے بیلٹ سے آزاد ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے اس ابھرے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرا جو پچھلے چند سالوں کی مفت خوری اور آرام پسندی کا منہ بولتا ثبوت تھا تو انہیں یکایک احساس ہوا کہ کائنات کا یہ بھی کیسا مضحکہ خیز اصول ہے کہ جب انسان کا پیٹ اور اس کا غرور اپنی طبعی حدود سے تجاوز کر جائیں تو پھر وہ کسی کو گلے لگانے کے قابل ہی نہیں رہتا کیونکہ پیٹ کا یہ جغرافیائی ابھار مادی قربتوں میں دیوار بن جاتا ہے اور اندر کا غرور روح کے مابین اتنے گہرے فاصلے پیدا کر دیتا ہے کہ اپنوں کی بائیں بھی چھوٹی پڑنے لگتی ہیں اور انسان اپنی ہی چربی اور انا کے خول میں قید ہو کر رہ جاتا ہے۔
میاں صاحب نے اپنی پرانی ٹوپی درست کی اور سامنے پھیلے سنسان پلیٹ فارم کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی وہ سانس بھی شاید ان ہی پرانی ریل گاڑیوں کی طرح تھکی ہوئی تھی جنہوں نے اس سرزمین پر لاکھوں انسانوں کی کہانیاں ڈھوئی تھیں انہوں نے سوچا عجیب بات ہے انسان جب غریب ہوتا ہے تو دوسروں کے سہارے کی تلاش میں رہتا ہے مگر جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے اور غرور بڑھ جاتا ہے تو وہ انہی لوگوں کو بھول جاتا ہے جنہوں نے اس کے خالی دنوں میں اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
یہی حال قوموں کا بھی ہوتا ہے یہی حال اداروں کا بھی ہوتا ہے یہ اسٹیشن بھی کبھی اپنے لوگوں سے گلے ملتا تھا یہاں ہر آنے والی ٹرین کے ساتھ خوشیوں کے قافلے اترتے تھے یہاں ماں کی آنکھیں بیٹے کے انتظار میں بھیگتی تھیں یہاں محبوب کی ایک جھلک کے لیے دل دھڑکتے تھے یہاں فوجی جوان رخصت ہوتے تھے اور ان کی مائیں دعاؤں کے پھول ان کے قدموں میں بچھاتی تھیں یہاں مزدور اپنے بچوں کے لیے رزق کی تلاش میں روانہ ہوتے تھے اور واپسی پر ان کے ہاتھوں میں تحفے ہوتے تھے مگر آج اس اسٹیشن کی حالت ایسی تھی جیسے کسی بوڑھے باپ کو اس کے اپنے بچوں نے تنہا چھوڑ دیا ہو جہاں کی اکھڑی ہوئی پٹریاں اور دھول سے اٹے ہوئے لوہے کے سگنل وقت کی بے رحمی کا ماتم کر رہے تھے اور ان کی خستہ حالی دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کسی بوڑھے جاگیردار کی حویلی کا آخری چراغ بھی گل ہو چکا ہو جہاں کبھی زندگی اپنے پورے رومان تلاطم اور سحر انگیزی کے ساتھ دھڑکتی تھی وہاں اب صرف چمگادڑوں کے غول اور شام کے سائے میں آوارہ کتوں کی بریفنگ چل رہی ہوتی ہے جو اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ مادی ترقی کے اس پرشکوہ دور میں پرانی وضع داری اور مخلص رشتوں کی اوقات اب ایک متروک کباڑ سے زیادہ نہیں رہی۔
ہوا کے ایک جھونکے نے پلیٹ فارم پر پڑے کاغذ کو اڑایا تو بندن میاں ہنس پڑے اور کہنے لگے واہ رے ترقی تیرے قصے بھی عجیب ہیں جن لوگوں نے کبھی ٹرین میں سفر کرنا اپنی شان سمجھا تھا آج وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر........
