menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Pakistan Ki Taraqi Ka Khwab Chakna Choor Hua

30 0
23.03.2026

جب پاکستان کی ترقی کا خواب چکنا چور ہوا

پاکستان میں دسمبر 1988ء میں سارک تنظیم کی کانفرنس ہوئی۔ اس میں ہندوستان میں برسراقتدار کانگریس کے وزیراعظم راجیو گاندھی بھی تشریف لائے۔ اس موقعہ پر پاکستانی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی سے ایک خصوصی ملاقات کی۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف پراکسی لڑائیاں لڑنے کی بجائے تنازعات کو بات چیت کے زریعے حل کریں گے۔

دونوں وزرائے اعظم کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان ہندوستانی پنجاب میں جاری "سکھ انسرجنسی" اور "کشمیر میں جاری مسلح جہاد" کو مدد فراہم نہیں کرے گا جبکہ جواب میں بھارت سیاچین گلیشئیر سے اپنی افواج کو واپس بلائے گا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہیں کریں گے۔ دونوں ممالک تجارت، عوام میں روابط کو فروغ دینے کے لیے ویزہ پراسس میں نرمی کرتے ہوئے بتدریج ویزے کی شرط کو ختم کردیں گے۔ ریل اور سڑک کے راستے تجارت اور سفر کو آسان بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کو وسعت دی جائے گی۔ ٹریڈ ٹرانزٹ اور عام سفر کو ممکن بنانے کے لیے اٹاری کے علاوہ مونا باو کھوکھرا آباد، امروکہ بھٹنڈہ ریل و سٹرک سیکشن کو کھولا جائے گا۔ اس طرح سے سارک ممالک پر مشتمل یورپی یونین طرز کا بلاک بنایا جائے گا۔

دیکھا جائے تو یہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی کا زبردست انقلابی روڈ میپ تھا۔ لیکن امن و ترقی کے اس روڈ میپ میں پاکستان کی فوجی اسٹبلشمنٹ کی جنرل ضیاء الحق کے دور میں تشکیل پانے والی تزویراتی گہرائی کی پالیسی آگئی جس کے تحت پاکستان کو ایک ڈیپ سیکورٹی سٹیٹ میں بدلا جا رہا تھا۔ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ ایک طرف تو انڈین کنٹرول جموں و کشمیر میں پاکستانی کنٹرول والے کشمیر میں جہادی تربیت کے بیس کیمپ بناکر ایک طاقتور گوریلا وار شروع کیے ہوئے تھی تو دوسری طرف یہ انڈین پنجاب میں سکھ بنیاد پرستوں کی جانب سے جاری انسرجنسی کو تیز کرنے اور وہاں برسر پیکار سکھ گوریلا تنظیموں اور دھڑوں کو پوری مدد فراہم کر رہی تھی۔ اسے مکمل یقین تھا کہ انڈین پنجاب میں سکھ انسرجنسی آزاد خالصتان اور انڈین........

© Daily Urdu (Blogs)