Dr. Ruth Pfau, Insaniyat Ki Roshan Misal
ڈاکٹر روتھ فاؤ، انسانیت کی روشن مثال
جب میں نے جادھو پائینگ کے بارے میں پڑھا کہ کیسے ایک شخص نے پورا جنگل کھڑا کردیا تو میں نے پاکستان کے بارے میں سوچا کہ ادھر کسی تنہا شخص نے کچھ اس قسم کا کام کیا ہے تو سب سے پہلے ایدھی صاحب کا نام آیا جنہیں تقریباً سارا پاکستان جانتا ہے۔ مزید سوچا تو مجھے ساٹھ ستر کی دہائی میں لکھے گئے ڈرامے اور ناول ذہن میں آئے جن میں کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کا بتایا جاتا تھا۔ جیسے ہی کوڑھ (جذام Leprosy) کا سوچا تو ذہن میں عظیم خاتون روتھ فاؤ کا نام آگیا۔ پاکستان میں جب جب جزام کا نام آئے گا تو مسیحا روتھ کانام ضرور آئے گا۔
9 ستمبر 1929 کو جرمنی میں پیدا ہونے والی اس عظیم خاتون نے 10 اگست 2017 کو کراچی میں آخری سانس لی۔ ان کی زندگی محض تاریخوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کی ایک درخشاں داستان تھی۔
1960 کی دہائی میں جب وہ پاکستان آئیں تو شاید انہیں خود بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ سرزمین ہی ان کی آخری منزل بن جائے گی۔ کراچی کی گلیوں میں جب انہوں نے........
