Saaye Ka Qarz
کسی گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا، جس کے صحن میں ایک پرانا نیم کا درخت کھڑا تھا۔ وہ درخت برسوں سے اسی طرح کھڑا تھا، جیسے کسی صابر باپ کی خاموش دُعا۔ اسی گھر میں ایک نوجوان رہتا تھاجس کا نام علی تھا۔ علی ذہین تھا لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی آگ جلتی رہتی تھی۔ یہ آگ اپنے باپ کے خلاف بلاوجہ کی نفرت لیے ہوئی تھی۔
اس کے باپ کا نام حامد تھا۔ حامد ایک سیدھا سادہ آدمی تھا۔ اس کے ہاتھوں میں محنت کی لکیریں تھیں اور چہرے پر وقت کی تھکن۔ علی کو اپنے باپ کی سادگی ہمیشہ کمزوری لگتی تھی۔ وہ اکثر دوستوں میں کہتا، "میرا باپ دُنیا سے بہت پیچھے ہے، اس کے پاس نہ سوچ ہے نہ سمجھ"۔
حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہی باپ دن رات محنت کرکے اسے پڑھا رہا ہے۔ اس کے خوابوں کو پانی دے رہا ہے جیسے کوئی باغبان پودے کی پرورش کرتا ہے۔ علی بات بات پر باپ سے اُلجھتا۔ اس کی عزت نہ کرتا اور اکثر گھر دیر سے آتا۔ حامد سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتا جیسے "خاموشی سب سے بڑا صبر ہے"۔
ایک دن علی نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر چھوڑ دے گا۔ اس کا خیال تھا کہ دُنیا بہت بڑی ہے اور وہ یہاں اکیلا ہی سب کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ باپ کی زندگی ایک پرانی کتاب ہے جس میں اب کچھ نیا نہیں بچا۔
وہ ایک صبح خاموشی سے گھر سے نکل گیا۔ نہ سلام کیا، نہ دُعا لی۔ حامد نے اِسے جاتے دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔ بس نیم کے درخت کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "وقت سب کچھ سکھا دے گا"۔
شہر پہنچ کر علی کو حقیقت کا پہلا جھٹکا لگا۔ شہر وہ نہیں تھا جو اس نے خوابوں میں دیکھا تھا۔ یہاں........
