menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Falkiyat Ki Tareekh (15)

28 0
25.10.2026

سن 323 قبل مسیح میں سکندر اعظم کی وفات کے بعد اس کے جرنیلوں کے درمیان سلطنت تقسیم ہوگئی۔ مصر پر بطلیموسی خاندان کا قبضہ ہوا اور اس کی نئی دارالحکومت اسکندریہ بنائی گئی۔ بحیرۂ روم کے کنارے آباد یہ شہر بہت جلد قدیم دنیا کا سب سے بڑا علمی مرکز بن گیا۔ یہاں صرف یونانی علماء ہی نہیں بلکہ مصر، بابل، شام اور دوسرے علاقوں کے اہلِ علم بھی جمع ہونے لگے۔ مختلف تہذیبوں کا علم ایک ہی جگہ اکٹھا ہونے لگا اور فلکیات کو بھی ایک نئی سمت مل گئی۔

بطلیموسی حکمرانوں نے اسکندریہ میں ایک عظیم کتب خانہ اور تحقیقی ادارہ قائم کیا، جسے آج کتب خانۂ اسکندریہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قدیم دنیا کی ہزاروں کتابیں، طومار(Scroll) اور علمی تحریریں یہاں جمع کی گئیں۔ مؤرخین کے اندازوں میں اختلاف ہے کہ وہاں کتنے طومار موجود تھے، لیکن اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس زمانے میں اس جیسا علمی........

© Daily Urdu (Blogs)