menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taleem, Ilm Aur Mutala e Matan

58 0
01.03.2026

تعلیم، علم اور مطالعۂ متن

مولانا حافظ محمد ایوب دہلویؒ حسن و قبح پر اپنی ایک گفتگو میں فرماتے ہیں کہ "انسان کا غور اگر صحیح ہو تو صحیح نتیجہ پر پہنچتا ہے۔ استادوں سے سن کر یا کتابوں سے دیکھ کر کوئی عقیدہ کر لیا ہے تو وہ لچر ہو جائے گا"۔

ہماری روایت میں تعلیم کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ عقلی اور مذہبی علوم کے لیے ضروری استعدادیں اگلی نسلوں تک منتقل کی جائیں۔ پرانے درس نظامی کے نصاب پر شمہ بھر غور سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں علوم آلیہ کا بہت غلبہ تھا اور ان کا مقصد معقولات کو ضروری فکری بنیادیں فراہم کرنا رہا ہے۔ علوم آلیہ کو آلاتی اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ فی نفسہٖ مقصود نہیں ہوتے بلکہ کسی مقصود کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ علوم آلیہ کا تعلق بالعموم دقائق (technical aspects of knowledge) سے ہوتا ہے، حقائق سے نہیں ہوتا۔ علوم آلیہ انسانی ذہن اور حقائق کے مابین شرائطِ عقل پر ثقہ اور مستدل نسبتوں کے قیام کے لیے پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ لیکن علوم آلیہ کی تدریس سے اگر "غور" کا ملکہ ختم ہو جائے تو معاملہ ہی معکوس ہوگیا اور ساری تعلیمی سرگرمی ہی بے سود ہوگئی۔

مولاناؒ "غور" سے مراد thinking لے رہے ہیں۔ یعنی "غور" عقل کا وظیفہ ہے اور تحتانی علوم آلیہ غور میں ادراک و اظہار کی خطا سے بچنے کے اسالیب سے متعارف کراتے ہیں۔ میرے نزدیک "غور" سے عین وہی عقلی سرگرمی مراد ہے جسے آج کل تنقیدی خوض (critical thinking) کہا........

© Daily Urdu (Blogs)