menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mazhabi Aur Ghair Mazhabi Taleem Aur Deeni Muasharat

33 0
03.08.2026

"مذہبی" اور "غیر مذہبی" تعلیم، اور دینی معاشرت

اگر جدیدیت کے بارے میں بہت ہی جذری (radical) نوعیت کی ایک ہی بات کہی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ اس نے بالکل نئے تصورات کے تحت سیاسی طاقت اور سرمائے کی نئی تشکیل کی ہے۔ سیاسی طاقت اور سرمایہ انسانی معاشرے کی چونکہ طبعی اساس ہیں اس لیے فرد اور معاشرے کی زندگی کا کوئی پہلو تبدیل ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جدید ریاست نے اصلاً طاقت اور سرمائے کی ادارہ جاتی اور تنظیمی تشکیل کو ممکن بنا دیا، جس میں مرکزیت معاشی پیداواری عمل کو حاصل رہی ہے۔

جدید انسانی معاشروں میں اس اساسی تبدیلی کی وجہ سے کوئی بھی انسانی عمل ایسا نہیں رہا جو ادارہ جاتی اور تنظیمی تشکیل سے بچ سکا ہو اور کسی دوسری اور متبادل منہج پر جاری رہ سکا ہو۔ کوئی بھی انسانی اور معاشرتی عمل ادارہ جاتی اور تنظیمی تشکیل میں ظاہر ہو نہیں سکتا جب تک وہ مکمل طور مقداری، مادی اور تشبیہی نہ ہو جائے۔ یہ کہنا نادانی کی بات ہے کہ انسانی عمل کی ادارہ جاتی اور تنظیمی تشکیل ردِ اخلاق اور ردِ روحانیت ہوتی ہے، کیونکہ تنظیم اخلاق اور روحانیت کے خلاف ہوتی ہے اور نہ ان کے حق میں ہوتی ہے۔

یہ اس کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وہ صرف پیداواری عمل کی نئی تشکیل ہے جس کا مقصد وسائل کے مناسب و مرتب استعمال سے پیداوار کو بڑھانا اور ریاست و سرمائے کی قائم کردہ مارکیٹوں میں پہنچانا اور بیچنا ہوتا ہے۔........

© Daily Urdu (Blogs)