menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mashriq e Wusta Aur Americi Taqat

24 0
20.09.2026

مشرق وسطیٰ اور امریکی طاقت

اس میں کچھ شک نہیں کہ آدمی کی فرقہ وارانہ وابستگیاں دنیا کی سیاسی اور معاشی صورت حال کو سمجھنے اور اس میں کوئی عمل اختیار کرنے پر لازمی اثرانداز ہوتی ہیں۔ ایران امریکہ جنگ اور یمن سعودی جنگ بھی اس معاملے سے مستثنی نہیں ہیں۔ ان جاری جنگوں میں شیعہ ایران، یمنی زیدیت اور وہابی سعودی عرب چونکہ براہ راست شامل ہیں اور سنی ترکی پاکستان بھی ان جنگوں سے زیادہ دور نہیں ہیں، اس لیے فرقہ وارانہ وابستگیاں بدلتی ہوئی عسکری اور سیاسی صورت حال کی تفہیم اور اختیار کردہ پالیسی پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ لیکن کسی ملک یا گروہ کو شیعہ، زیدی، وہابی یا سنی کہہ دینا تحصیلِ حاصل ہوتا ہے اور صورت حال کو سمجھنے میں معاون نہیں ہوتا۔

موجودہ صورت حال کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد، مشرق وسطیٰ میں تاریخی اور سیاسی ایجنسی برطانوی قیادت کو اور بعدازاں امریکہ کو منتقل ہوئی تھی۔ جنگ میں جانبین یکساں اور بعض اوقات مساوی سیاسی ایجنسی کے حامل ہوتے ہیں اور یہ بات موجودہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے درست نہیں ہے۔ مشرق وسطی پر امریکی اور مغربی استعمار کے عسکری اور معاشی غلبے کے بالمقابل مسلمانوں میں جنگی استعداد رکھنے والی کوئی قوت نہیں ہے۔ اس لیے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی "جنگی صورت حال" کو مزاحمت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ماقبل استعمار دنیا میں مسلمانوں کی تین بڑی سلطنتیں قائم تھیں: خلافت عثمانیہ، صفوی سلطنت اور مغلیہ سلطنت۔ ترکی، ایران اور پاکستان کی موجودہ حیثیت اس تاریخی........

© Daily Urdu (Blogs)