menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Waseem Abbas Ka Qatal, Riyasat Ki Zimmedari Aur Insaf Ka Mafhoom

28 0
22.10.2026

وسیم عباس کا قتل، ریاست کی ذمہ داری اور انصاف کا مفہوم

کسی معاشرے کے مہذب ہونے کا فیصلہ محض قانون کی کتابوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ تہذیب کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ایک یتیم بچے کی زندگی کسی صاحبِ اختیار کی انا کے سامنے بے وقعت ہو جائے اور جب انصاف کا سوال ریاست کے دروازے پر دستک دے رہا ہو۔

ملتان میں پندرہ سالہ وسیم عباس کے ساتھ پیش آنے والا المناک واقعہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے یہی سوال رکھتا ہے: کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرے میں رہتے ہیں، یا ہم نے تہذیب کو محض ایک خوب صورت لفظ بنا کر رکھ دیا ہے؟

خبروں کے مطابق وسیم عباس ایک یتیم بچہ تھا جو الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔ 19 اکتوبر 2026ء کو ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اسے ایک گاڑی سے کچل کر ہلاک کر دیا گیا۔ سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بظاہر گاڑی کو بچے کا تعاقب کرتے اور پھر اسے ٹکر مارتے دیکھا گیا۔ پولیس نے اس واقعے پر قتل کا مقدمہ درج کیا۔ یہ محض ایک بچے کی موت نہیں بلکہ اس سوال کا سامنا کرنے کا لمحہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کمزور انسان کی جان، عزت اور آزادی کی کتنی قیمت ہے۔

اس واقعے کی تفصیلات نے لوگوں کو شدید صدمے اور غصے سے دوچار کیا۔ لیکن کسی معاشرے کی اخلاقی پختگی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ وہ ظلم پر کتنا غصہ کرتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ اس غصے کو انصاف میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔

کیا مہذب معاشرے میں سزا کی بات کرنا غیر مہذب ہے؟ ہمارے ہاں جب کسی سنگین جرم کے بعد سزا کی بات کی جاتی ہے تو بعض اوقات بحث انسانی حقوق، اصلاح اور مہذب معاشروں کی مثالوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ یہ تمام........

© Daily Urdu (Blogs)