menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lord Of The Flies: Kirdar Chupaye Ja Sakte Hain, Haqiqat Nahi

30 0
29.10.2026

لارڈ آف دی فلائز: کردار چھپائے جا سکتے ہیں، حقیقت نہیں

انسان کی ایک مکاری یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے، اس کی اس سے بڑی مکاری یہ ہے کہ وہ اپنے جھوٹ کو دوسروں کی سچائی بنا کر پیش کرنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ان کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کا فن سیکھ لیتے ہیں۔ اپنی بددیانتی کو دوسروں کی بدگمانی، اپنی ناکامی کو دوسروں کی سازش، اپنی خودغرضی کو دوسروں کی بے حسی اور اپنی جارحیت کو دوسروں کی اشتعال انگیزی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ محض اپنی غلطی چھپانا نہیں چاہتے، بلکہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی جگہ کسی دوسرے کو مجرم سمجھے۔۔

اس طرزِ عمل کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ولیم گولڈنگ کے شہرۂ آفاق ناول Lord of the Flies ایک اچھی مثال ہے۔ یہ ناول بظاہر چند بچوں کی کہانی ہے جو ایک غیر آباد جزیرے پر پھنس جاتے ہیں، لیکن اس کی تہہ میں انسانی فطرت، اقتدار کی خواہش، خوف اور اخلاقی زوال کی ایک گہری داستان پوشیدہ ہے۔

ناول میں بچوں کا ایک گروہ جزیرے پر پھنس جانے کے بعد اپنی بقا کے لیے ایک نظم و ضبط قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ رالف قیادت سنبھالتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ سب بچے مل کر کام کریں، پناہ گاہیں بنائیں اور بچاؤ کے لیے اشارے کی آگ روشن رکھیں۔ دوسری طرف جیک ہے، جس کی دلچسپی رفتہ رفتہ اجتماعی ذمہ داری سے زیادہ شکار، اختیار اور دوسروں پر غلبہ پانے میں بڑھتی جاتی ہے۔

جیک کی شخصیت کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ خوف کو محض ایک احساس نہیں رہنے دیتا، وہ اسے اپنی طاقت کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ جزیرے پر ایک پراسرار درندے کا تصور بچوں کے ذہنوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ اس خوف کے سامنے وہ معقول سوچ اور باہمی تعاون سے دور ہونے لگتے ہیں اور جیک خود کو ان کے تحفظ کے لیے ضروری شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

یہاں ناول ہمیں انسانی نفسیات کا ایک اہم........

© Daily Urdu (Blogs)