Das Pise Ki Eidi Ya Khuloos K Gumshuda Khushbu
دس پیسے کی عیدی یا خلوص کی گمشدہ خوشبو
عید محض تہوار نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور رشتوں کی مٹھاس کو تازہ کرنے کا نام ہے یہ دن روٹھوں کو منانے کادن ہے۔ اس دن گلے ملنے، دعائیں دینے اور عیدی بانٹنے کی روایات دراصل دلوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ عید کی یادوں میں جب کبھی بچپن کے دریچے کھلتے ہیں تو ایک بہت سی معصوم اور خوبصورت یاداکثر مجھے گھیر لیتی ہے۔ جی ہاں! عید کے دنوں کی سب سے خوبصوت یادوں میں سے ایک یاد بڑے ابا جی (داداجان) کی عیدی کی بھی ہے جس کی ہر عید پر مجھے آج بھی بڑی کمی محسوس ہوتی ہے۔
عید کے دن صبح عیدگاہ سے واپسی پر جب بچے ان کے گرد جمع ہو جاتے اور ایک ایک کرکے سلام اور عیدمبارک دیتے تو وہ اپنی جیب سے احتیاط سے وہ سکے نکالتے جو شاید پورے سال سے جمع کرتے رہتے تھے اور ہر بچے کی ہتھیلی پر پیار سے رکھتے اور مسکراتے ہوئے دعا دیتے۔ اس لمحے میں جو محبت، شفقت اور اپنائیت ہوتی تھی وہ کسی بڑی رقم میں کہاں مل سکتی ہے۔
بڑے اباجی کے دس پیسے کی عیدی شاید اسی لیے آج بھی یادوں میں زندہ ہے کہ ان میں دکھاوئے کا رنگ نہیں بلکہ محبت کی خوشبو ہوتی تھی۔ ان کی آنکھوں میں اپنی نئی نسل کے لیے ایک مخصوص پیغام ہوتا تھا جو مجھے آج سترسال کی عمر میں بھی ہر عید پر وہ خوشبو محسوس ہوتی ہے اور وہ خاموش پیغام یاد آتا ہے کہ راویات زندہ رکھنا اصل خوشی ہوتی ہے۔ بڑے عرصے تک میں نے ان کےعید پر دیے ہوئے سکے یادگار کے طور پر سنبھالے رکھے۔
بڑے اباجی (داداجان) کی عیدی محض دس پیسے فی بچہ ہوا کرتی تھی مگر اس کی قیمت آج کے بڑے بڑے نوٹوں سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہم سب بچے........
