menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sirf Aqeeda Nahi, Aik Mukammal Fikti Inqilab

33 0
03.09.2026

صرف عقیدہ نہیں، ایک مکمل فکری انقلاب

توحید کو اکثر صرف ایک مذہبی عقیدہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ قرآن مجید کی روشنی میں توحید محض عقیدے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری انقلاب ہے۔ "لا إله إلا الله" صرف زبان سے ادا کیے جانے والے چند الفاظ نہیں، بلکہ یہ انسان کی پوری فکر، وفاداری، اخلاق، سیاست، معیشت اور سماجی رویوں کی بنیاد متعین کرتے ہیں۔ یہ کلمہ انسان کو بتاتا ہے کہ اس کی آخری وفاداری کس کے ساتھ ہے، اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور حق و باطل کا فیصلہ کن معیار کون ہے۔

"لا إله إلا الله" کے دو حصے ہیں۔ پہلے ہر جھوٹے معبود، ہر باطل اختیار اور ہر مصنوعی مرکزِ اقتدار کی نفی کی جاتی ہے، پھر صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات کیا جاتا ہے۔ گویا اسلام پہلے انسان کو ہر غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کرتا ہے اور پھر اسے صرف اللہ کی بندگی میں داخل کرتا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو انسان کو اندر سے آزاد اور باوقار بناتا ہے۔

قرآن مجید میں انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف چند مذہبی رسومات کی اصلاح کے لیے نہیں تھی۔ انبیاء نے انسان کے عقیدے کے ساتھ ساتھ اس کی اجتماعی زندگی کو بھی درست کرنے کی کوشش کی۔ ان کی دعوت نے ان تمام نظاموں کو چیلنج کیا جو انسانوں پر ایسا اختیار قائم کرنا چاہتے تھے جس کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔

فرعون کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ فرعون صرف ایک ظالم بادشاہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی اور فکری تصور تھا جس میں اقتدار کو مطلق حیثیت حاصل تھی۔ اس کا دعویٰ تھا: "أَنَا رَبُّكُمُ الُأَعُلَىٰ"، یعنی "میں........

© Daily Urdu (Blogs)