menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hammala Jadu Ki Haqiqat: Aik Tehqiqi Jaiza

22 0
02.05.2026

حمّالہ جادو کی حقیقت: ایک تحقیقی جائزہ

انسانی تاریخ میں جادو اور جادوگری کا تصور ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ دنیا کی تقریباً ہر تہذیب میں اس کے اثرات اور تذکرے ملتے ہیں۔ برصغیر میں اسے عام طور پر "کالا جادو" یا "جادو ٹونا" کہا جاتا ہے، مگر ایک اصطلاح "حمّالہ جادو" بھی زیرِ بحث آتی ہے، جسے بعض لوگ جادو کی ایک نہایت شدید اور خطرناک قسم قرار دیتے ہیں۔ اس کالم میں ہم اس تصور کی حقیقت، اس کے پس منظر اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جادو کا تصور قدیم تہذیبوں میں رچا بسا تھا۔ مصر، میسوپوٹامیا اور چین کی تہذیبوں میں جادو کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا تھا بلکہ اسے مذہبی اور سماجی زندگی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ قدیم مصر کی "کتاب الموتٰی" میں ایسے منتروں کا ذکر ملتا ہے جو مرنے والوں کی روحوں کی رہنمائی کے لیے پڑھے جاتے تھے۔ یونان اور روم میں بھی جادو کو دشمنوں کو نقصان پہنچانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ عرب معاشرے میں اسے "سحر" کہا جاتا تھا۔

"حمّالہ جادو" کی اصطلاح دو الفاظ پر مشتمل ہے: "حمّالہ" یعنی بوجھ اٹھانے والا اور "جادو" یعنی غیر معمولی یا خفیہ عمل۔ بعض ماہرین کے مطابق اس سے مراد ایسا جادو ہے جو انسان پر ایک بھاری بوجھ کی طرح........

© Daily Urdu (Blogs)