menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Badalte Rujhanat Aur Muasharti Iqdar Ka Challenge

30 0
16.04.2026

بدلتے رجحانات اور معاشرتی اقدار کا چیلنج

بیسویں صدی کے وسط تک یورپی معاشرہ بھی اپنی مخصوص اخلاقی حدود اور روایات کا پابند تھا۔ خواتین کے مختصر لباس، خصوصاً بکنی، کا کوئی عام تصور موجود نہیں تھا۔ 1946ء میں Louis Réard نے جب پہلی بار فرانس میں ایک ماڈل کے ذریعے بکنی متعارف کروائی تو اسے شدید عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ صرف عام لوگوں نے اسے ناپسند کیا بلکہ میڈیا نے بھی سخت تنقید کی، جبکہ مذہبی حلقوں نے اسے غیر اخلاقی قرار دیا۔ Pope Pius XII سمیت کلیسا کے نمائندوں نے اس لباس کو مغربی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ اس مرحلے پر یہ واضح تھا کہ کوئی بھی معاشرہ اچانک ایسی تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

تاہم، تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر کسی رجحان کو مسلسل اور منظم انداز میں پیش کیا جائے تو وقت کے ساتھ اس کے خلاف مزاحمت کم ہو جاتی ہے۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں فلمی صنعت، فیشن شوز اور مقابلۂ حسن کے ذریعے بکنی کو بار بار عوام کے سامنے لایا گیا۔ ابتدا میں اسے مسترد کیا گیا، لیکن میڈیا اور تفریحی صنعت نے اسے ایک "جدید طرزِ زندگی" کے طور پر پیش کرنا جاری رکھا۔........

© Daily Urdu (Blogs)