menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Riyasti Mafad Ya Iqtidar Ka Tahafuz?

13 0
yesterday

ریاستی مفاد یا اقتدار کا تحفظ؟

پاکستانی وفد کے حالیہ دورۂ چین کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کو اگر محض ایک رسمی سفارتی بیان سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے تو شاید اس میں کوئی غیر معمولی بات دکھائی نہ دے۔ مگر عالمی سیاست میں اصل پیغامات اکثر انہی محتاط جملوں کے اندر چھپے ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر سفارتی آداب سمجھ کر پڑھ لیا جاتا ہے۔

اعلامیے میں پاکستان اور چین نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے کردار، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور یکطرفہ اقدامات کی مخالفت پر زور دیا۔ بظاہر یہ روایتی سفارتی زبان ہے، مگر موجودہ عالمی ماحول میں یہ دراصل ایک بڑے جغرافیائی و سیاسی اختلاف کا اظہار بھی ہے۔

دنیا اس وقت ایک نئی عالمی تقسیم کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ پرانی سرد جنگ جیسی نظریاتی جنگ نہیں۔ اب سرمایہ داری اور اشتراکیت نہیں بلکہ "عالمی نظم" (World Order) کے دو مختلف تصورات آمنے سامنے ہیں۔ ایک تصور وہ ہے جس میں عالمی سیاست طاقت، عسکری برتری اور محدود اسٹریٹجک اتحادوں کے ذریعے چلتی ہے۔ دوسرا تصور وہ ہے........

© Daily Urdu (Blogs)