Crowd Puller Se Ghaddari Tak Ka Safar
کراؤڈ پُلر لیڈر سے غداری تک کا سفر
پاکستانی سیاست میں بعض شخصیات اپنی جماعتی حیثیت سے زیادہ اپنے عوامی تاثر کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔ شیر افضل مروت کا شمار بھی اِنہی چند ناموں میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے مختصر عرصے میں جلسوں، میڈیا مباحثوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل کی۔ وہ ایک ایسے وقت میں اُبھرے جب اِن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر کڑا وقت چل رہا تھا۔ اِسی کڑے وقت کی وجہ سے جماعت کے بڑے بڑے رہنما پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ رہے تھے اور جو باقی بچ گئے وہ کچھ جیلوں میں تھے اور کچھ غائب۔ اِس سخت وقت میں شیر افضل مروت نہ صرف پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے بلکہ کراؤڈ پُلر لیڈر کے طور پر بھی سامنے آئے۔ ان کی جارحانہ گفتگو، بے باک انداز اور عوامی اجتماعات میں جوشیلے لب و لہجے نے انہیں محض ایک سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایک "کراؤڈ پُلر" رہنما کے طور پر متعارف کروایا۔
مگر سیاست میں مقبولیت ہمیشہ وفاداری کی ضمانت نہیں بنتی۔ طاقت کے ایوانوں، جماعتی نظم و ضبط، ذاتی اختلافات اور سیاسی حکمتِ عملیوں کے درمیان اکثر وہ لمحہ آتا ہے جب ایک ہی شخصیت کو کبھی وفادار سپاہی اور کبھی باغی یا غدار کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔ شیر افضل مروت کی سیاسی کہانی بھی اِسی تضاد کی عکاس دکھائی دیتی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر شیر افضل مروت عمران خان کے نام سے منسلک نہ ہوتے تو شاید اتنی شہرت حاصل نہ کر پاتے۔ لیکن اس سب سے پہلے بھی وہ اپنی ایک پہچان رکھتے تھے جوڈیشری سے منسلک رہے ایک بہترین وکیل تھے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ عمران خان کے نام کے ساتھ منسلک ہو کر تو اور بھی بہت سے لوگوں نے شہرت حاصل کی۔
کیا صرف شیر افضل مروت ہی عمران خان کا نام لے کر پارلیمنٹ تک پہنچے؟ نہیں نا۔ آج اگر تحریک انصاف والے شیر افضل مروت کو غدار اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ انہیں اُس وقت کے شیر افضل مروت کو بھی تو دیکھنا چاہیے جب پورے ملک میں بڑے بڑے رہنما عمران خان کا نام لینے سے ڈرتے تھے تو اُس وقت چند آوازوں میں ایک آواز شیر افضل مروت کی بھی تھی جس نے پورے ملک میں عمران خان کے نعرے لگوائے۔ اِس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کا سوشل میڈیا باقی جماعتوں کے سوشل میڈیا سے بہت زیادہ آگے ہے۔ جو کہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ زیادہ تر نوجوان طبقہ اِس جماعت کے ساتھ ہی منسلک ہے اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی نوجوان طبقہ ہی کرتا ہے۔ لیکن اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی........
