Tarteeb Durust Karen
میں نے اپنے ابا جان پر لکھے ایک مضمون میں کراچی میں ایک پروفیسر سے ملاقات کا احوال لکھا ہے۔ ہر ایک کے بارے میں اُن کی ڈیفالٹ ویلیو منفی تھی۔ فلاں شخص میں فلاں خرابی، فلاں نظام میں فلاں کجی، فلاں چیز میں یہ یہ کمی، فلاں ملک میں ہو رہا ہے، فلاں قوم یوں کر رہی ہے۔ کچھ بھی اُن کی خواہش کے مطابق نہ ہو رہا تھا۔ دنیا کی کسی چیز اور کسی شخص سے وہ راضی نہ تھے۔ کائنات کا ہر ذرہ اُن کی اجازت اور مرضی کے بغیر کام کر رہا تھا۔ ہم جتنی دیر بیٹھے، وہ خالقِ کائنات کی کارکردگی پر مسلسل عدم اطمینان کا اظہار فرماتے رہے۔
میری پوسٹنگ اُن دنوں ہری پور میں تھی۔ وہاں کمپیوٹر لیب میں کام کرنے والا ایک ٹیکنیشن یاد آیا۔ اُس کا بالکل یہی مزاج تھا۔ اُن دنوں بہت سے لوگوں کو ابوظہبی میں ملازمت ملی تھی جن میں یہ لڑکا بھی شامل تھا۔ لیکن اِسے تین مہینے کی آزمائشی مدت پوری ہونے سے بھی پہلے ملازمت سے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ ڈائریکٹر نے........
