menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qayam e Pakistan Ki Taqreeb Ki Saalgirah Par Kuch Baatein

43 0
14.08.2026

قیامِ پاکستان کی تقریب کی سالگرہ پر کچھ باتیں

آج قیامِ پاکستان کی تقریب منعقدہ 14 اگست 1947ء کی سالگرہ ہے۔ یہ وہ دن تھا جب 90 برس سے لہراتے یونین جیک کو اتارا گیا اور قائدِ اعظم نے سبز ہلالی پرچم کو بلند کرکے لہرایا۔ جن لوگوں نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور قائدِاعظم کو پاکستان کا پہلا وائسرائے یعنی گورنر جنرل بنتے دیکھا تھا، وہ ہماری قومی تاریخ کے شاہد تھے۔ اُنھوں نے نعرے کو ملک اور تصور کو حقیقت بنتے دیکھا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ بیان کرتے ہوئے صرف اپنی مرضی کے واقعات کا ذکر کرنا بددیانتی ہے۔ تاہم ساری دنیا میں بیشتر میٹھا میٹھا ہپ ہپ ہی کا رواج ہے۔ آئیے ہم کچھ باتوں کو درست تناظر میں دیکھ لیں۔

پہلا۔ قائدِاعظم کو پاکستان کا پہلا وائسرائے ہونے کا عہدہ پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا بلکہ اِس کے لیے حیثیت دار مسلمانوں میں سخت آپسی مقابلہ تھا اور قائد کو شدید داخلی سیاست اور دباؤ کا سامنا تھا۔ اِس ضمن میں اخبار "انقلاب" کی میں شہ سرخی دیکھ لیجیے۔ یہ اخبار پورے برِصغیر میں پہنچتا تھا۔ دیگر اخبارات نے بھی اِسی موضوع پر شہ سرخیاں لگائی تھیں کہ نئے انتظامی سیٹ آپ میں پاکستان نامی نئے ملک کا پہلا مرکزی حکمران کون ہوگا۔

دوسرے۔ قائدِاعظم کے رکھ رکھاؤ سے بہت پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ شخص ایک دن انڈیا کا وائسرائے بن سکتا ہے۔ مثلًا اُس دور کی میٹنگز اور ڈنرز وغیرہ کا قاعدہ تھا کہ سربراہِ میٹنگ یعنی وائسرائے سب سے پہلے اپنی کرسی چھوڑتا اور اجازت لے کر ہال سے باہر نکلتا تھا۔ قائد ہائی سوسائٹی کے واحد شخص تھے جو وائسرائے کے ساتھ ساتھ ہی باہر نکلتے تھے نہ کہ ایک........

© Daily Urdu (Blogs)