menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dil Ke Mareezon Ke Liye Umeed Ka Aik Markaz

29 0
08.10.2026

دل کے مریضوں کے لیے امید کا ایک مرکز

کبھی کبھی کسی ادارے کے بارے میں رائے کسی رپورٹ، پریس ریلیز یا سرکاری دعوے سے نہیں بنتی، بلکہ چند گھنٹوں کے ذاتی مشاہدے سے بنتی ہے۔ آج میرے لیے ایسا ہی دن تھا۔

والد صاحب کی انجیوگرافی کے سلسلے میں جب صبح وزیرآباد کے چودھری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچا تو ذہن میں بھی وہی سوالات تھے جو کسی بھی مریض کے لواحقین کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ علاج کیسا ہوگا؟ ڈاکٹرز اور عملہ کس طرح تعاون کریں گے؟ انتظار کتنا ہوگا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک سرکاری ادارے میں وہ توجہ اور سہولت مل سکے گی جس کی ایک پریشان حال خاندان کو توقع ہوتی ہے؟

چند گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد محسوس ہوا کہ بعض اوقات کسی ادارے کو سمجھنے کے لیے اس کی عمارت سے زیادہ اس کے اندر ہونے والی معمولی معمولی سرگرمیوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔

اور آج میں نے بہت کچھ دیکھا۔

وزیرآباد کارڈیالوجی محض ایک ہسپتال نہیں۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے یہ ایک بہت بڑے علاقے کے لوگوں کے لیے دل کے علاج کا اہم سہارا ہے۔ وزیرآباد، گوجرانوالہ اور گردونواح سے لے کر دور دراز علاقوں تک ایسے بے شمار مریض یہاں آتے ہیں جن کے لیے لاہور یا کسی دوسرے بڑے شہر کا سفر خود ایک الگ آزمائش بن سکتا ہے۔ جدید cardiac care کی سہولیات سے آراستہ یہ ادارہ ایک ایسے خطے میں خدمات انجام دے رہا ہے جہاں دل کے مریضوں کی تعداد اور ضرورت دونوں کم نہیں۔

یہاں آنے والے ہر شخص کے پاس اپنی ایک کہانی ہوتی ہے۔ کسی کے والد، کسی کی والدہ، کسی کا بھائی، کسی کی بیوی، کسی کا جوان بیٹا اور کسی کا وہ شخص جس کے بغیر پورا گھر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔

دل کا مرض صرف مریض کا مرض نہیں ہوتا۔ پورا خاندان اس کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہو جاتا ہے۔

شاید اسی لیے آج جب والد صاحب کی انجیوگرافی کا مرحلہ مکمل ہوا اور انہیں مزید نگہداشت کے لیے CCU منتقل کیا گیا تو مجھے صرف ایک مریض کے علاج کی تکمیل پر اطمینان نہیں ہوا، بلکہ ایک پورے نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔

اور یہاں ایک بات کا اعتراف ضروری ہے۔

اگر کسی سرکاری ادارے میں آپ کو ایک ہی دن میں ڈاکٹر سے لے کر سکیورٹی گارڈ، لیبارٹری اٹینڈنٹ، اکاؤنٹس کے عملے، نرسنگ اسٹاف، پیرامیڈیکس اور دوسرے معاون عملے تک ایک مربوط سلسلہ دکھائی دے تو اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے پیچھے کسی نہ کسی سطح پر انتظام، نگرانی اور ذمہ داری کا احساس ضرور موجود ہوتا ہے۔

آج مجھے یہی چیز وزیرآباد کارڈیالوجی میں نمایاں نظر آئی۔

عام طور پر ہم کسی ادارے کی کارکردگی کو اس کے بڑے افسر یا چند بڑے ناموں سے منسوب کر دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ادارے کی اصل کارکردگی اس وقت سامنے آتی ہے جب اوپر کی اچھی انتظامی سوچ نیچے کی آخری سطح تک پہنچے۔

اگر چیف ایگزیکٹو کا وژن ہو مگر سکیورٹی گارڈ مریض سے بدتمیزی کرے تو وژن اپنی جگہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر اچھا ہو مگر........

© Daily Urdu (Blogs)