Urdu Afsana, Jang, Asr e Hazir Aur Falasteen
اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین
جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔
جہاں تک اردو افسانے کا تعلق ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اردو افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کی ابتدا میں ہوا۔ 1857ءکے بعد بر صغیر میں ہونے والی فرقہ واریت، نفرت حسد تعصب، قحط بنگال، دو قومی نظریہ، مسلم لیگ کی سیاست، تحریک آزادی، جملہ سیاسی و تاریخی واقعات کو اردو افسانے میں سمو دیا گیا ہے۔
اردو افسانے نے مختلف ادوار طے کیے ابتدا میں منشی پریم چند کی قیادت میں حقیقت پسندی کے رجحان کا علم بردار رہا۔ ساتھ ہی ساتھ سجاد حیدر یلدرم کی قیادت میں رومانویت کے رجحان نے بھی فروٖغ پایا۔ اس دوران ان گنت افسانہ نگار اور ان کے شاہکار افسانے منظرِ عام پر آئے۔
پہلی جنگ عظیم جو 1914ء میں لڑی گئی اس کے اثرات کے تحت کئی افسانے تخلیق ہوئے۔ ہندوستان سے فوجی نوجوان بھرتی کرکے لے جائے گئے جو نہ کبھی خود واپس آ سکے اور نہ ہی ان کی تنخواہیں والدین کو موصول ہو سکیں۔ اس حوالے سے اس دور کے افسانہ نگاروں نے راہ تکتی ہوئی مائیں، بیویاں، منگیتروں اور یتیم بچوں کا تذکرہ بڑے دل سوز انداز میں کیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم نے جنوبی ایشیا کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا تھا ابھی پہلی جنگ عظیم کے اثرات سے ہی دنیا سنبھلی نہ تھی۔ کہ روسی انقلاب آ گیا۔
اردو افسانے پر روسی انقلاب اور ادب کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1930ء کے بعد اردو ادب پر مارکسی نظریات اور خیالات کا اثر بہت نمایاں نظر آنے لگا۔ مارکسی نظریات کے زیر اثر اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کی ابتدا ہوئی۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے افسانے میں ایک نئی جہت کو فروغ دیا۔ ترقی پسند نظریات کے حامل افسانہ نگاروں میں احمد علی، سجاد ظہیر، علی عباس حسینی، خواجہ احمد عباس، عزیز احمد، اوپندر ناتھ اشک، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، محمد حسن عسکری، حیات اللہ انصاری، احمد ندیم قاسمی، سبھی کے یہاں طبقاتی کشمکش، جنسی، نفسیاتی اور سیاسی موضوعات نظر آتے ہیں۔
تحریک خلافت اور ترکی کی آزادی کے تحت بھی اردو افسانہ تخلیق ہوا۔ سلطان حیدر یلدرم بسلسلۂ ملازمت قسطنطنیہ گئے تو انہوں نے ترکی ادب کا مطالعہ بطور خاص کیا جس پر فرانسیسی ادب کے اثرات غالب تھے۔ یلدرم کے افسانوں غربت وطن، سیل زمانہ، کوسم سلطان، میں وطن کی آزادی کی تڑپ موجود ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی افسانہ نگاروں نے تحریک خلافت پر قلم اٹھایا۔
6 اور 9 اگست 1945 کو دوسری جنگ عظیم میں انسانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔ اس دن امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم گرایا دیکھتے ہی دیکھتے دو سے تین لاکھ لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ اس واقعے نے پوری انسانیت کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس دن کو تاریخ میں سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی بمباری کی وجہ ہے کہ آج بھی اگر ہیروشیما یا ناگاساکی میں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں کوئی نہ کوئی پیدائشی نقص پایا جاتا ہے۔
دنیا بھر کے ادیبوں اور شاعروں نے اس عمل پر انتہائی غم و غصے اور جاپان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اردو افسانہ نگاروں نے بھی اپنے رد عمل کو فوری طور پر افسانوں میں پیش کیا۔ مثلاً احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ہیروشیما سے پہلے ہیروشیما کے بعد، ابن سعید کا افسانہ ہیروشیما، کرشن چندر کا افسانہ ہوا کے بیٹے، غلام عباس کا افسانہ دھنک، اس کے علاوہ منٹوں نے چچا سام کے نام خط میں ایٹم بم کا تحفہ مانگ کر ایک گہرے طنز کا اظہار کیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم، روسی انقلاب اور دوسری جنگ عظیم نے ایشیا کو ایک خطرناک صورتحال سے دو چار کر دیا۔
1947 میں برطانوی تسلط سے آزادی اور پاکستان کا قیام دنیا کے دس المناک حادثوں میں سے ایک ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ افراد نے ہجرت کی۔ دس لاکھ سے زائد افراد قتل کیے گئے۔ مال و اسباب لوٹا گیا۔ لاکھوں لڑکیوں کو کوٹھوں پر فروخت کر دیا گیا۔ فسادات کے حوالے سے سب سے پہلا نام کرشن چندر کا آتا ہے۔ کرشن چندر نے فسادات کے پس منظر میں کئی کہانیاں لکھیں جو ان کے افسانوں کے مجموعے "ہم وحشی ہیں" میں اکٹھی شائع ہوئیں۔ اندھے، لال باغ، ایک طوائف کا خط، جیکسن، امرتسر، پشاور ایکسپریس، اس مجموعے میں شامل افسانے ہیں۔ کرشن چندر کے افسانے، جانور، دوسری موت بھی فسادات کے پس منظر میں لکھے گئے افسانے ہیں۔
منٹو نے فسادات کے موضوع پر کئی افسانے لکھ کر انسانی المیے کو اُبھارنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے افسانے، کھول دو، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سہائے شریفین، موذیل، گورمکھ سنگھ کی وصیت، فسادات کے المیے پر لکھے گئے بہترین افسانے تصوّر کیے جاتے ہیں۔
فسادات کے پس منظر میں عصمت چغتائی کا افسانہ "جڑیں"، خواجہ احمد عباس کا افسانہ "میری موت"، سہیل عظیم آبادی کا افسانہ "اندھیارے میں ایک کرن"، احمد ندیم قاسمی کا افسانہ "پرمیشر سنگھ"، راما نند ساگر کا افسانہ "اور انسان مر گیا"، جمیلہ ہاشمی کا افسانہ "بن باس"، راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ "لاجونتی"، ممتاز مفتی کا افسانہ "ثمینہ"، خدیجہ مستور کا افسانہ........
