Jo Alam Guzar Rahe Hain
ادب کا حقیقی منصب محض جمالیاتی آسودگی فراہم کرنا نہیں بلکہ اپنے عہد کی روح کو لفظوں میں محفوظ کرنا بھی ہے۔ تاریخ واقعات کو محفوظ کرتی ہے، مگر ادب ان واقعات کی روح، ان کے درد، ان کی معنویت اور ان کے انسانی اثرات کو محفوظ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض شعری متون اپنے عہد کی حدود سے نکل کر ہر زمانے کے لیے زندہ دستاویز بن جاتے ہیں۔ وہ صرف تخلیق نہیں رہتے بلکہ تہذیب کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عبید اللہ علیم کی مشہور غزل بھی اسی قبیل کی تخلیق ہے، جس کے اشعار ہر اس زمانے میں نئے معنی اختیار کر لیتے ہیں جہاں انسان اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں اجنبی، بےبس اور زخمی دکھائی دیتا ہے۔
میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
یہ شعر محض ایک شاعر کی داخلی کیفیت کا اظہار نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے مسلسل المیے کا شعری استعارہ ہے۔ اس میں کسی ایک شہر کی آگ نہیں جل رہی بلکہ پوری انسانی تہذیب کی وہ آگ روشن ہے جو کبھی جنگوں، کبھی سامراج، کبھی مذہبی انتہا پسندی، کبھی نسلی امتیاز، کبھی سرمایہ دارانہ استحصال اور کبھی فکری جبر کی صورت میں انسان کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعر کی معنویت ہر نئے بحران کے ساتھ ازسرِنو دریافت ہوتی ہے۔
اگر ہم موجودہ عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بظاہر اپنی تاریخ کے سب سے ترقی یافتہ دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی سائنس، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور مواصلاتی انقلاب نے انسانی زندگی کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی ہیں، مگر اسی کے ساتھ انسان کی تنہائی، عدمِ تحفظ، جنگ، نقل مکانی، ماحولیاتی تباہی اور اخلاقی بحران بھی پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔ گویا سائنس نے فاصلے کم کیے، مگر دلوں کے درمیان خلیج بڑھتی گئی۔
اسی حقیقت کی طرف فلسطینی نژاد دانش ور ایڈورڈ سعید اپنی کتاب Orientalism میں اشارہ کرتے ہیں کہ طاقت صرف فوج، معیشت یا اسلحے کے ذریعے حکمرانی نہیں کرتی بلکہ وہ زبان، علم، تاریخ اور بیانیے کے ذریعے بھی ذہنوں پر قبضہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق ہر سامراج پہلے دنیا کی ایک مخصوص تصویر تخلیق کرتا ہے، پھر اسی تصویر کو حقیقت کے طور پر رائج کرتا ہے۔ اس تناظر میں جب ہم عبید اللہ علیم کے پہلے شعر کو پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر صرف مرنے والوں کا نوحہ نہیں لکھ رہا بلکہ ان آوازوں کی بھی فریاد کر رہا ہے جنہیں طاقتور بیانیے خاموش کر دیتے ہیں۔
آج عالمی ذرائع ابلاغ کی قوت ناقابلِ انکار ہے۔ ایک واقعہ دنیا کے ایک حصے میں مختلف انداز سے دکھایا جاتا ہے اور دوسرے حصے میں اس کی بالکل مختلف تعبیر پیش کی جاتی ہے۔ بعض انسانی جانیں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہیں جبکہ بعض اموات محض اعداد و شمار بن کر رہ جاتی ہیں۔ ایڈورڈ سعید اسی امتیازی بیانیے کو فکری استعمار قرار دیتے ہیں۔ عبید اللہ علیم کا سوال"میں یہ کس کے نام لکھوں؟"
درحقیقت اسی خاموش کر دی گئی انسانیت کا سوال بھی ہے۔
عبید اللہ علیم اسی عدمِ تحفظ کو نہایت سادہ مگر انتہائی گہرے استعاروں میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں گلستان صرف باغ نہیں بلکہ تہذیب ہے، پرندے صرف پرندے نہیں بلکہ آزادی، امید اور اجتماعی شعور کی علامت ہیں، جبکہ خواب محض شخصی تمناؤں کا نام نہیں بلکہ ایک قوم کی مستقبل بینی اور اس کے تہذیبی افق کا استعارہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کسی ایک سیاسی واقعے کی ترجمان نہیں بنتی بلکہ انسانی وجود کے اس مسلسل بحران کی علامت بن جاتی ہے جسے ہر عہد اپنے انداز میں جیتا ہے۔
یہ شعر تہذیبی اضطراب کو مزید گہرا کرتا ہے:
کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں
یہاں محض مذہبی حسرت نہیں بلکہ تہذیبی خود احتسابی کی دعوت ہے۔ شاعر کسی مافوق الفطرت عذاب کی بات نہیں کرتا بلکہ اس اخلاقی زوال کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انسان اپنے اعمال سے خود پیدا کرتا ہے۔ قرآنِ حکیم کا اصول ہے کہ قوموں کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کریں۔ اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے اپنے خطبات اور شاعری میں مختلف انداز سے بیان کیا کہ زوال باہر سے نہیں آتا، بلکہ........
