menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yaadein, Qissay, Baatein

18 0
11.06.2026

جنگ سے بھلا کسے محبت ہوگی مگر کیا کیجئے جنگ اخبار سے ایک جنگی انسیت اور اپنائیت تھی۔ جنگ کرتے کرتے کوئی شہید ہوتا ہے یا پھر غازی جبکہ ہم جنگ پڑھتے پڑھتے پہلے قاری اور بعد میں لکھاری بننے کا تمغہ سجا بیٹھے۔ جنگ پڑھتے پڑھتے بچپن سے نوجوانی میں قدم رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گلی میں کسی ایک گھر میں جنگ آتا اور پھر گھر گھر جاتا۔ رات کو اپنے اصل گھر لوٹتا تو صفحہ صفحہ کانپ رہا ہوتا۔ تڑامڑا، حال سے بے حال، نہ جانے کس کس کے ہاتھ لگتا۔ لگتا کہ میدان جنگ سے آرہا ہے۔ اس پر بھی اسے ایک مخصوص تھپی پر رکھدیا جاتا کہ مہینے کے آخر میں ردی پیپر والے نے جو آنا ہوتا تھا۔ غرض گھروں میں "جان سے زیادہ جنگ کی حفاظت" کی جاتی۔

میں دعوی سے کہہ رہا ہوں کہ اس ملک میں صبح سب سے شاندار استقبال بعد ازاں بدترین استحصال اخبار کا ہوتا ہے۔ کہیں تندور کی گرم روٹیوں میں لپیٹا جاتا ہے تو کہیں پرچوں کی دکانوں پر بے دردی سے پھاڑ پھاڑ کر دال مصالحوں کے ساتھ جا رہا ہوتا ہے۔ جنگ سے رونق کہاں کہاں نہ ہوتی۔ نائی کی دکان ہو یا ہوٹل، یہاں تک تھڑوں تک پر جنگ ہاتھوں میں ہوتا۔ ایک پڑھتا تو سب سنتے اور اس پر تبصروں پر کیا کیا قہقہے نہ بلند ہوتے۔ اکثریت جنگ پڑھ کر سیاست کے سمندر میں بے لاگ تجزیوں اور تبصروں کے غوطے لگایا کرتی۔ اسی میں کہیں بحث بڑھتے بڑھتے تلخ جملوں تک پہنچ جاتی لیکن یہ سب وقتی ہوتا۔ جنگ پڑھتے ضرور مگر آپس میں جنگ نہ کرتے۔ ایک جنگ کے نہ ہونے سے کیا کیا منظر نظروں سے اوجھل یع گئے۔

کراچی والوں کی حد تک میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ جنگ یہاں کا سب سے مقبول اخبار رہا۔ وہ لوگ جو کسی کو منہ نہ لگاتے۔ گھنٹوں اس کے آگے منہ لگائے بیٹھے رہتے۔ گھر کے بڑوں کے لیے اخبار پڑھنے کی جگہ اور وقت مخصوص ہوتا۔ اکثر اس دوران چائے پیتے اور بات چیت ممنوع ہوتی بلکہ اس حد کہا جاتا: ہلکے بولو ابا یا دادا اخبار پڑھ رہے ہیں۔ غرض اس زمانے میں جنگ اخبار پڑھنا ادب و آداب میں شمار ہوتا۔ پڑھنے والے جہاں دیدہ، صاحب نظر اور ملکی و غیر ملکی حالات پر کڑی نظر رکھنے والے تصور کیے جاتے۔ اگر کسی گفتگو میں وہ شریک ہوتے تو لوگ ان کی باتیں دھیان سے........

© Daily Urdu (Blogs)