menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kahan Kahan Aur Kis Kis Ne Pan Khaye

15 5
29.01.2026

زندگی میں پہلی بار تمباکو ممتاز ہرن چھاپ اپنی چچی کے پاندان سے کھائی۔ چھپ چھپ کے کھائی مگر مزا کھل کے آیا۔ ملازمت نہیں لگی تھی مگر ایک پان کے پیسے ہو جاتے، ہو کیا جاتے ایک یا سوا روپے کا پان۔ اتنے تو گھر کے سودا سلف سے با آسانی مار لیے جاتے۔ ایڈورٹائزنگ میں آئے تو ونگز کمیونیکشنز کی ملازمت میں اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں حسین بھائی ہوا کرتے تھے۔ پان چھوڑ دیا تھا مگر وہی کہ چور چوری سے جائے مگر ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ دوپہر کو کھانے کے بعد ان سے پان کا ایک ٹکڑا لے لیتا جس میں دو تین چھالیہ کے ٹکڑے اور تمباکو آ جاتی اور غریب کا کام بن جاتا۔ محلے میں ایک مالباری کی دکان سے پان لیتا۔ اس نے میرا نام شنکر رکھ دیا تھا۔ میں جاتا تو کہتا "ہاں بھائی شنکر کا پان بنا دو"۔ اب وہ عرصہ ہوگیا چلا گیا۔ نہ اس نے کبھی میرا نام پوچھا نہ میں نے بتایا۔ مجھے خود اس کا نام پتہ نہیں تھا۔ رشتہ پان سے تھا تو نام سے کیا ہوتا ہے۔

ونگز سے نکلے تو میکسیم ایڈورٹائزنگ پہنچے تو یہاں میرے کریٹیو ہیڈ قیصر عالم صاحب تھے۔ عائشہ بآوانی کالج شاہراہ فیصل کے سامنے بلڈنگ میں آفس تھا۔ یہاں کام بہت تھا۔ شام کو قیصر صاحب اور میں تقریباََ روزانہ پیدل (گاڑی ہوتے ہوئے) براستہ سندھی مسلم سوسائٹی، طارق روڈ دوپٹہ گلی سے اندر جا کر حسن شہید مرزا کے اسٹوڈیو پہنچا کرتے۔ سندھی مسلم سے قیصر عالم پان کا پڑا بنواتے جس میں ہمارے پان........

© Daily Urdu (Blogs)